ڈیجیٹل عہد: معلومات کی اہمیت

ڈیجیٹل عہد میں الیکٹرانکس آلات صبح جاگنے سے رات سونے تک مختلف ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں جیسے ایک طرح کی ڈیجیٹل غلامی اور نگرانی سے بھی تعبیر کیا جارہا ہے کیونکہ یہ آلات نہایت ہی تیزی سے معلومات زندگی کا حصہ بننے جارہے ہیں اور اب ان کے بغیر عملی زندگی کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ انفرادی اقدامات، کام کاج، ترجیحات اور ڈیجیٹل زندگی کی تقریباً ہر پہلو کی نگرانی کی جارہی ہے اور ہمارے بارے میں معلومات کو ڈیٹا پوائٹس میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ یہ نگرقانی سرچ ہسٹری، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، ویب پیچ ویوز جیسے ذرائع سے ذاتی ڈیٹا تک پھیلی ہوئی ہے جو ہماری ڈیجیٹل ذندگی کے کم و بیش سبھی پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے۔ تکنیکی ترقی کی رفتار کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ اعدادوشمار اب تیار ہونے سے کہیں ذیادہ تیزی سے پروسیس کئے جارہے ہیں۔ درحقیقت، کچھ ٹیک کمپنیاں اس قدر ڈیٹا کی بھوکی ہیں کہ وہ مصنوعی ذہانت (اے ۔آئی) کا استعمال کرتے ہوئے تیارکردہ مصنوعی ڈیٹا کا استعمال کررہی ہیں تا کہ خلا کو پُر کیا جاسکے اور حقیقی دنیا کے نمونوں کی نقل کی جاسکے۔ یہ ٹیک بھوک کئی عوامل کی وجہ سے ہے، جن میں ٹارگٹیڈ اشتہارات اور اے۔آئی ماڈلز کو بہتر بنانا نمایاں ترجیح ہے۔ ٹارگٹیڈ اشتہارات ٹیک کمپنیوں کو اپنی آمدنی بڑھانےکے قابل بناتے ہیں۔ سال 2023 میں صرف اشتہارت سے گوگل کی آمدنی 237.6 ارب ڈالرز تھی جو اس کی مجموعی آمدنی 305.6 ارب ڈالرز اہم حصہ ہے۔ اسی طرح جیسے میٹا جسے عرف عام میں فیس بک بھی کہا جاتا ہے اس کی آمدنی 134.9 ارب ڈالرز رہی جو تاریخ کی بلند ترین آمدنی رہی اور اس میں 98.5 فیصد آمدنی اشتہارات کے ذریعے حاصل کی گئی جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے آتی ہے۔ یہ اعدادوشمار اس بات کی نشاندہی کررہے ہیں کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کا اپنے کاروباری ماڈلز کےلئے سروپلس کیپیٹل ازم پر انحصار ہے، یہاں تک کہ انفرادی پرائیویسی کی اہمیت کا بھی خاطرخواہ خیال نہیں رکھا جارہا۔ بدقسمتی سے ٹاگیٹڈ ایڈورٹائزنگ کا مقصد مالی فوائد حاصل کرنا نہیں بلکہ رائے عامہ میں ہیراپھیری کرنا اور سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانا ہے۔ ایک اور رجحان جس نے رفتار پکڑی ہے، وہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی دوڑ ہے ۔ "اے ائی" ماڈل اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کےلئے بڑی مقدار میں ڈیٹا پر انحصار کرتا ہے۔ سال 2020 کے بعد سے "اے آئی" ماڈلز میں استعمال ہونے والے تربیتی اعدادوشمار میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ مضامین، دستاویزات، ویڈیوز، پوڈکاسٹ وغیرہ پر مشتمل آن لائن مواد ، تیزی سے بڑھتی ہوئی مصنوعی ذہانت کی صنعت کی ریڑھ کی ہڈی بن گیا ہے۔ ان رجحانات سے انٹرنیٹ صارفین کی آن لائن سرگرمیاں اور ذاتی ڈیٹا مارکیٹنگ پر مبنی مصنوعی ذہانت کی تربیت کےلئے خام مال بننے کے نتائج پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہئے۔ صارفین کے ڈیٹا کے بارے میں یہ ٹیک پلیٹ فارم کتنی اچھی برح سے آگاہ ہیں اور صارفین کو ان کمپنیوں کی بنیادی رازداری کا لحاظ رکھتے ہوئے کوائف (ڈیٹا) کے استعمال کی پالیسیوں کے بارے میں کتنی کم آگاہی ہے اس حوالے سے صورتحال زیادہ اچھی نہیں ہے۔ یہ عدم مساوات ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو انفرادی اقدامات کی پیشنگوئی کرنے اور اس کے مطابق اثرانداز ہونے کا اختیار دیئے ہوئے ہے اور اس کا اطلاق بالخصوص سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ہوتا ہے، جہاں ذاتی ڈیٹا رضا کارانہ طور پر شیئر کیا جاتا ہے اور ڈیجیٹل سرگرمیوں کے نشانات باقی رہ جاتے ہیں۔ اس رجحان کا دائرہ کار صرف ٹارکٹیڈ مارکیٹنگ سے کہیں ذیادہ ہے۔ ڈیٹا جتنا ذیادہ ذاتی نوعیت کا ہوتا ہے، ٹیکنالوجی کمپنیاں اس سے اتنا ہی ذیادہ فائدہ اٹھاتی ہیں اور یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ڈیجیٹل سہولیات فراہم کرنے والی کمپنیاں صارفین کے کوائف کو آمدنی بڑھانے کےلئے استعمال کرتی ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ ٹیک ٹجٹس اور اس طرح کی ڈیٹا مائنگ جلد ختم نہیں ہونے جارہی۔ یہ آن لائن صارفین پر منحصر ہے کہ وہ موجودہ عدم مساوات کم کرنے کےلئے کس قدر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک چیز جو ہم کرسکتے ہیں وہ ذاتی ڈیٹاکی قدروقیمت کی اہمیت کو سمجھنا ہے اور ذاتی ڈیٹا کمپنیوں کو دینے سے قبل احتیاط کرنا ہے۔ ٹیکنالوجی کمپنیاں اس بیانیے کی تشہیر کررہی ہیں کہ پرائیویسی کے خدشات کو کم کرنے کےلئے صارفین کے کوائف کا استعمال ضروری ہے تاہم اگر ذاتی ڈیٹا فراہم نہ کیا جائے کمپنیاں اسے حاصل کرنے کے لئے زیادہ محنت کریں گی لہٰذا ذاتی ڈیٹاکو آن لائن پوسٹ کرنے سے پہلے احتیاط سے کام لیتے ہوئے سوچنا ضروری ہے خاص طور پر ذاتی تصاویر اور حساس معلومات کسی بھی صورت ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حوالے نہ کیا جائے۔ضرب المثل ہے کہ ایک تصویر ایک ہزارالفاظ کے مساوی ہوتی ہے لیکن ذاتی تصاویر اس سے کہیں زیادہ اہم ہوتی ہیں اور ان کی اہمیت کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا اس لئے مناسب غور و خوض اور شعوری آمادگی کے ساتھی ایسی تصاویر یا کوائف آن لائن پوسٹ کیا جانا چاہیئے اس سلسلے میں رہنما اصول یہ ہے کہ جس قدرکم ڈیٹا آن لائن پوسٹ کیا جائے اتنا اہم ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ آن لائن سرگرمی ختم ہوتے ہی تمام اکاؤنٹ سے لاگ آؤٹ ہوجانا چاہیئے۔ جب ہم مختلف آلات پر ہروقت آن لائن رہتے ہیں تو اس سے ہمارے کوائف چوری ہونے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اسی طرح انٹرنیٹ صارفین کو ای میلز کو بھی محتاط رہتے ہوئے دیکھنا چاہیئے کیونکہ ان میں ایمجیڈ ڈٹریکٹرز شامل ہوسکتے ہیں۔ مشکوک ای میلز اور فیکس کھولنے سے گریز کرنا ہی بہتر ہے۔ اس سلسلے میں کام کاج اور ذاتی استعمال کی ای میلز کو الگ رکھنا بہتر ہے۔ مزید برآں الگ الگ براؤزر اور سرچ انجن استعمال اور پیچیدہ پاسورڈ رکھنا بھی بہتر ہے۔ مندرجہ بالا اقدامات آسان ہیں اور ان پر عمل کیا جائے تو بہت سے آن لائن خطرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ آج کے دور میں سائنس فکشن کو سمارٹ اور مصنوعی ذہانت جیسی ٹیکنالوجیوں کے ذریعے حقیقت میں تبدیل ہوتے دیکھا جارہا ہے لہٰذا ممکنہ خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے فعال اقدامات ضروری ہیں۔ 

THE IMPACT OF AI ON THE FUTURE OF HUMAN LIFE

Artificial Intelligence (AI) is rapidly transforming the world, and its influence will continue to grow in the coming decades. From healthca...