مصنوعی ذہانت کیا ہے؟

ایک کالم نگار نے بڑے خوبصورت انداز میں مصنوعی ذہانت کے بارے میں لکھا ہے۔ شیکسپئیر کے انداز میں تعزیتی پیغام لکھ کر دکھاؤ، میر اور غالب کا موازنہ کرکے دکھاؤ، ان میں کو بڑا شاعر تھا؟ کڑاہی کوشت بنانے کی ترکیب بتاؤ؟َ مجھے یش راج فلم کےلئے ایک گانا تخلیق کرناہے، اس کے بول لکھ دو۔ یہ تم انگریزی میں لکھ دیا ، اس کا اردو میں ترجمہ کر کے بھیجو۔ مجھے انڈا پراٹھا کھا کر اتنا مزا کیوں آتاہے؟ پلاٹ خریدنا اچھی سرمایہ کاری کیسی ہے؟ کیا تمہارے پاس ہر سوال کا جواب ہے۔

یہ وہ چند سوالات ہیں جو میں نے ایک نئی انسانی ایجاد مصنوعی ذہانت کے پروگرام جو کہ میں نے چیٹ جی پی ٹی سے پوچھے اور اس نے ہر سوال کا خاصہ تسلی بخش جواب بھی دیا، چیٹ جی پی ٹی نومبر 2022 میں متعارف کرایا گیا۔ یہ جدید دنیا کا آٹھواں عجوبہ ہے جس نے دنیا میں تہلکہ مچا رکھا ہے اگر آپ اس پروگرام سے پوچھیں کہ تم کون ہو؟ تمہیں کس نے بنایا ہے تو اس کا جواب کچھ یوں ہوگا "مجھے پروگرامرز اور انجینئر کی ایک ٹیم نے تیار کیا ہے انہوں نے میرے سافٹ وئیر کے اجزاء تیار کیے جیسے کہ الگورتھم اور پروگرامنگ لاجک، جو مجھے زبان کو سمجھنے اور سوالات کا جواب دینے کے قابل بناتے ہیں"۔ یہ ایک قسم کا روبوٹ ہے جس سے آپ دنیا کی ہر بات پوچھ سکتے ہیں ، اس کی مدد سے تخلیقی مواد تیار کیا جا سکتا ہے ، کمپوٹر پروگرامنگ کی جاسکتی ہے ، تحقیق میں مدد لی جاسکتی ہے، بچے سکول کے پراجیکٹ تیار کرسکتے ہیں ، اس سے آپ شاعری کراسکتے ہیں، شادی بیاہ کا مشورہ بھی لےسکتے ہیں، شاید کچھ لوگوں کا خیال ہو کہ یہ تمام معلومات تو پہلے سے گوگل پر دستیاب ہیں تو پھر چیٹ جی پی ٹی ہی کیوں؟ ایسا نہیں ہے گوگل یا وکی پیڈیاغالب کے انداز میں غزل نہیں کہے سکتے، جبکہ چیٹ جی پی ٹی میر، غالب اور اقبال کے انداز میں شاعری بھی کرکے دکھاسکتا ہے، یہ اور بات ہے کہ شاعری اس درجے کی نہ ہو لیکن آپ اس کوشش کو داد ضرور دے گے، ویسے بھی یہ پروگرام ابتدائی مراحل میں ہے اور اس میں غلطیوں کا امکان بھی موجود ہے۔ چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ گفتگو کرکے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ آنے والے برسوں میں دنیا یکسر تبدیل ہوجائےگی، یہ  پروگرام ہماری زندگیوں کا نقشہ تبدیل کر کے رکھ دے گا۔ ہم آج کی سائنسی ترقی کو بھول جائے گے ، اب یہ بحث عروج پر ہے کہ یہ پروگرام ہمیں مستقبل میں فائدہ پہنچائے گا یا کہ نقصان کا باعث بنے گا۔

مصنوعی ذہانت کے گارڈ فادر سمجھے جانے والے جیفری ہٹن نے مصنوعی ذہانت کے استعمال کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے اپنی ملازمت سے ریٹائر ہونے کا علان کیا 75 سالہ جیفری نے ایک اخباری بیان میں کہا کہ اب انہیں اپنے کام پر پچھتاوا ہوا ، ایک اور خبررساں ادارے کو بتایا کہ اے ائی چیٹ بوٹس کے کچھ خطرات بےحد خوفناک ہیں۔ کہاں تک میں بتا سکتا ہوں لیکن مجھ لگتا ہے کہ وہ جلد ہی انسان سے ذیادہ ذہین ہوسکتے ہیں۔

ڈاکٹر ہتن کی نیورل نیٹ ورکس کے مطالعے اور گہری ریسرچ کے نتیجے میں چیٹ جی پی ٹی جیسے مصنوعی ذہانت میں نیورل نیٹ ورکس ایسے نظام ہیں جو معلومات کو سیکھنے اور اور اس پر کاروائی کرنے کے تجربے کرنے کے قابل بناتے ہیں، برطانوی اور کینیڈین ماہر نفسیات اور کمپیوٹر سائنسدان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ چیٹ بوٹس جلد ہی انسانی دماغ کی معلومات کی سطح کو پیچھے چھوڑسکتے ہیں، اس لئے ہمیں اس کے بارے میں فکر کی ضرورت ہے۔

چند سیکنڈ میں مضامین لکھنے اور دیگر مفید معلومات فراہم کرنے کے لئے مصنوعی ذہانت چیٹ جی پی ٹی کی حیرت انگیز صلاحیتوں پر عالمی سطح پر شور ہے، کیونکہ پوری دنیا میں لوگ چیٹ بوٹس کو استعمال کرنا چاہتے ہیں، یہ انسانوں کی طرح گفتگو کی نقل کرتا ہے اور انٹرنیٹ سے ڈیٹا چھاٹنے کے بعد بہترین مضامین لکھتا ہے لیکن اب خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں کہ بنی نوع انسان کےلئے ایک آنے والی تباہی بہت نزدیک ہے۔ اس کے بانی کا کہنا ہے کہ ایک ایسا نظام بنانا جو خود انسانی ذہانت کا مقابلہ کرے یا اس سے بھی آگے نکل جائے،نسل انسانی کےلئے بہت ذیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ خود ہی شروع ہوجائےگا اور خود ہی اپنے آپ کو ترقی یافتہ شکل میں ڈیزائن کرے گا۔ جیفرے ہتن وہ واحد شخص نہیں ہے جو مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی سے پریشان ہے، مشہور برطانوی سائنسدان سٹیفن باکنگ نے عالمی موبائل ساز کیمپنی کے شریک بانی کے ساتھ ایک خط پر دستخط کئے تھے، جس میں وارننگ دی گئی تھی کہ مصنوعی ذہانت سے انسانیت کو گہرے خطرات لاحق ہیں، انہوں نے 2014 میں بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی نسل انسانی کے خاتمے کا آغاز کرسکتی ہے، ان خطرات کے باوجود اس پراجیکٹ پر کام جاری ہے، اس کے متعلق بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ انسانیت اپنی ےتباہی کی طرف جاری ہے۔

انسان ہمیشہ سے نئی ایجاد ات کا متوالا ہے، آج ہم جو آرام دہ زندگی گزار رہے ہیں، یہ سب سائنس کا ہی کمال ہےلیکن بعض چیزیں ایسی تخلیق ہوجاتی ہیں جس کی وجہ سے انسان خود ہی خوفزدہ ہوکر رہ جاتا ہے۔ سب سے پہلے تو ترقی کیوجہ سے ماحول کی تباہی کا منظر بڑا خوفناک ہے، ترقی کے نام پر قدرتی ماحول کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے، ہزاروں لاکھوں پرانے پہاڑی گلیشیئرز ختم ہورہے ہیں،م ایمیزون سمیت دوسرے جنگلات کو ختم کیا جارہا ہے، جس سے ماحول تباہ ہورہا ہے جنگکہ جنگلی حیات بھی ختم ہورہی ہیں، پاکستان جیسے پسماندہ ممالک ذیادہ خطرے سے دوچار ہیں۔ ایٹمی اسلحہ اور تنصیبات بھی ماحول اور انسان کےلئے خطرناک ہیں۔ اسی طرح کلوننگ کی کوششوں کو بند کردیا گیا ہے، جس مجیں ایک انسان کی شکل کا دسرا انسان بنایا جاتا تھا، جب اس میں انسا نی خطرے کا احساس ہوا تو اس پروگرام پر پابندی لگا دی گئی۔ اب ایسے روبوٹ بنانے کی فکر جو سارا کام خود کرے گی، میٹرک کے انگلش کورس میں ایک مضمون تھا جس میں مشینیں انسانوں پر حاکم ہوجاتی ہیں، اس طرح کی فلمیں بھی بنائی گئی ہیں، جن میں روبوٹ انسانوں سے بغاوت کردیتے ہیں، قسم قسم کے ہتھیاروں کے علاوہ مختلف قسم کے جراثیمی ہتھیار بھی انسانوں خاتمہ کا آغاز ہیں صرف ایک بظاہر ہر بےضرر اور فائدہ مند چیز جو کہ ہم لاؤڈسپیکر کے نام سے جانتے ہیں کو دیکھ لیں، جس کے استعمال سے مذہبی فرقہ واریت کے علاوہ سور کی آلودگی میں بھی بےپناہ اضافہ ہوگیا ہے۔ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت ذیادہ نفیس ہوتا جاتا ہے یہ پیشنگوئی کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ بعض حالات میں یہ کیسے برتاؤ کرےگا؟ بعض ردعمل سے تباکن نتائج بھی برآمد ہوسکتے ہیں۔ ان میں احتساب کی کمی ہے، یہ سسٹم انسانی مدد کے بغیر خودکار انداز میں کام اور فیصلے کرتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے سسٹم کو ہتھیار بھی بنایاجاسکتا ہے۔ جس کے تباہ کن نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ قاتل روبوٹ جیسے خودکار ہتھیار بھی بنائے جاسکتے ہیں۔ سو سے زائد ہداف پر حملہ کرنے والے سوارم ڈرون بھی تیار ہوچکے ہیں جو خودکار انداز میں فیصلے اور حملے کرتے ہیں، چھوٹے چھوٹے ڈرونز بنائے گئے ہیں جو انسانی چہرہ شناخت کرسکتے ہیں، ایسے ڈرونز ہجوم والے مقامات پر بھی چہرہ شناخت کرکے اپنے ہدف کو ختم کرسکتے ہیں، سپردھین مشین تیزی سے اپنے آپ کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جس سے ان کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ اس سے ایک بڑی خطرناک صورتحال پیدا ہوسکتی ہے ۔ جہاں پر مشینیں انسان سے ذیادہ ذہین ہوجائیگی۔ جیسے جیسے یہ سسٹم ترقی کرےگا تو اس میں وسیع پیمانے پر صنعتوں میں انسانی قوت کی جگہ لنے کی صلاحیت ہوگی، جسکی وجہ سے بڑے پیمانے پر بےروزگاری میں اضافے کا خدشہ ہوگا۔ اب انسان کو اس ایجاد پر قابو پانے کی ضرورت کا کام درپیش ہے۔

اس سسٹم کو اگر احتیاط اور محفوظ انداز سے تیار کیا جائے تو اس سسٹم کے فائدے بھی بہت زیادہ ہیں طب سے سے لے کر مالیات تک، تعلیم سے لےکر نقل و حمل تک، یہ ہماری زندگی کے ہر پہلو میں انقلاب لانے کی صلاحیت رکھتا ہے، خاص کر صحت کی دیکھ بھال میں اس کی بہت زیادہ افادیت ہے۔ اس میں بیماریوں کی سست اور تیز تشخیص کی صلاحیت ہے۔ نقل و حمل کو بھی محفوظ  اور زیادہ مؤثر بنانے کی صلاحیت ہے۔ خودکار نظام سے چلنے والی گاڑیں اور ٹرک انسانی غلطی سے ہونے والے حادثات کو کم کرسکتے ہیں  اور ٹریفک کی روانی کو بہتر بنایا جاسکتا ہے، بس احتیاط کی ضرورت ہے۔


THE IMPACT OF AI ON THE FUTURE OF HUMAN LIFE

Artificial Intelligence (AI) is rapidly transforming the world, and its influence will continue to grow in the coming decades. From healthca...