شعبہ تعلیم اور مصنوعی ذہانت
چیٹ جی پی ٹی جیسے چیٹ بوٹس کے بڑے لینگویج ماڈلز (ایل ایل
ایمز) تشکیلی و ترتیبی براحل سے گزر رہے ہیں۔ چیٹ بوٹس کا یہ عروج شعبہ تعلیم پر
کس طرح اثرانداز ہورہا ہے اور مصنوعی ذہانت کے درس و تدریس پر کیا اثرات مرتب
ہورہے ہیں اس حوالے سے بھی متعدد موضوعات پر بحث جاری ہے۔ جیٹ بوٹس گزشتہ چند ماہ
سے کام کاج کی جگہوں اوربالخصوص شعبہ تعلیم پر اثرانداز ہورہا ہے ۔ اعلیٰ تعلیم
میں چیٹ بوٹس کے نمایاں ممکنہ استعمال کیساتھ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ طلبہ
ٹیکنالوجی سے مدد لیں اور مصنوعی ذہانت کے ذرائع کے استعمال پر تبقادلہ خیال بھی
کررہے ہوں، اس سلسلے میں سطحی یا عمومی بحث اس تشویش پر مرکوز ہے کہ طلبہ چیٹ جی
پی ٹی جیسے جیٹ بوٹس کے ذریعہ پیدا کردہ آؤٹ پُٹ کو اپنے اصل کام کے طور پر پیش
کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں اور اس سے تعلیم و تحقیق کا معیار متاثر ہوگا۔ اپنی جگہ
یہ اہم و جائز تشویش ہے جس سے صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی یونیورسٹیاں
نبرآزما ہیںَ رسل گروپ جو برطانیہ میں یو ایس آئی وی، لیگ کے مساوی ہے اس کی چوبیس
ایلیٹ یونیورسٹیاں ہیں۔ آکسفورڈ، کیمبرج، ایڈنبرا، مانچسٹر برسنل اور دیگر ممالک
سمیت اس کی زیرنگرانی اداروں میں طلبہ پر چیٹ جی پی ٹی جیسے چیٹ بوٹس کے استعمال
پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، یوں برطانیہ کی چالیس یونیورسٹیوں میں
مضمون نگاری اور کورس ورک کے لئے طلبہ پر
چیٹ جی پی ٹی کے استعمال پر پابندی عائد ہے، مصنوعی ذہانت کے متعلق یہ ابتدائی
پالیسی مؤقف یکطرفہ ہے جس پر یقیناً آنے والے وقتوں میں نظرثانی ہوگی کیونکہ
مصنوعی ذہانت کا استعمال جس انداز سے بڑھ رہا ہے اس نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اور
نہ ہی اس سے کوئی راہ فرار اختیار کی جاسکتی ہے، شعبہ تعلیم کے فیصلہ سازوں کو
چاہئیے کہ مصنوعی ذہانت جیسی چیزوں کو وہ کھلی آنکھوں سے دیکھے اور اس کی صلاحیتوں
سے محدود استفادہ حاصل کرنے کی بجائے لامحدود استفادے کے حوالے سے حکمت عملی واضع
کریں۔ توجہ طلب ہے کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے تعلیم و تحقیق کے شعبوں میں
انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے، اس حوالے سے چند جامعات نے مختلف نقطہ نظر بھی اپنایا
ہے جسے پیش نظر رکھنا چاہئے، ہیر یوٹ واٹ، گلاسکو یونیورسٹی اور یونیورسٹی کالج
لندن ان چند یونیورسٹیوں میں شامل ہے جو بعض حالات میں طلبہ کی طرف سے چیٹ جی پی
ٹی کے استعمال کی اجازت دینے کےلئے رہنما اصول تیار کررہی ہے۔ پاکستان میں ہائر
ایجوکیشن نے چیٹ جی پی ٹی کے استعمال کے حوالے سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی ہے تاکہ
یونیورسٹیوں میں اس کے استعمال کےلئے پالیسی تیار کی جاسکے تاہم یہ دیکھنا ابھی
باقی ہے کہ ان کے نتائج کیا برآمد ہونگے اور کیا یہ رہنما اصول پاکستان کی تمام
یونیورسٹیوں پر یکساں نافذ کرنے کی کوشش کی جائےگی یا نہیں۔ تاہم اس حوالے سے تین
خدشات پیش نظر رکھنا چاہیئے۔ پہلا یہ کہ پاکستان کے پاس ٹیکنالوجی کے زریعے نقل
کرنے والوں کو پکڑنے کے لئے ماہر اساتذہ کی کمی ہے اور ایسی صورت میں اندیشہ ہے کہ
صرف تعلیم و تحقیق بلکہ تدریس کا معیار خراب ہوگا۔ دوری بات یہ ہے کہ پاکستان میں
جب کبھی بھی کوئی پالیسی تیار ہوتی ہے تو اس پر نظرثانی یا اس میں ترمیم کرنا
ناممکن حد تک مشکل و دشوار ہوجاتا ہے۔ ہائر ایجوکیشن کے تناظر میں ایک اہم مثال
یونیورسٹی فیکلٹی ممبران کی تقرری اور ترقی کےلئے ایچ ای سی کے ٹرم ٹریک سسٹم کی
ہے، جس کسی نے بھی تعلیمی شعبے میں چند سال ملازمت کی ہوگی اس اس ملازمتی پالیسی میں
خامیاں نظر آرہی ہونگی، لیکن تمام تر خدشات کےباوجود ٹی ٹی ایس پر عمل درآمد کیا
گیا اور ایچ ای سی کو چند خامیاں دور کرنے میں قریب پندرہ سال کا عرصہ لگے گا۔
تیسری اور آخری بات یہ ہے کہ وفاقی سطح پر تعلیم سے متعلق فیصلہ سازی کرنے والوں
کے پاس جامعات سے متعلق اعداد وشمار تو ہوتے ہیں لیکن انہیں زمینی حقائق و صورتحال
کا علم و تجربہ نہیں ہوتا۔ ایک ایسی صورت میں کوئی بھی فیصلہ کس طرح درست ثابت
ہوسکتا ہے جبکہ وہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے نہ تیار کیا گیا ہے۔ تجویز ہے
کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن ٹی ٹی ایس کے تحت محکمانہ ترقی کےلئے اہلیت کا تعین کرنے
میں چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کرسکتا ہے اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے تحقیق اور
مطبوعات کے معیار کا تعین باآسانی ممکن ہے۔ چیٹ جی پی ٹی کے ذریعے کم وقت میں
تحقیقاتی مقالے تیار کئے جاسکتے ہیں، یہاں بھی ایچ ای سی کےلئے دانشمندانہ طرزعمل
ہوگا کہ وہ ٹیکنالوجی سے پیچھا چھڑانے کی بجائے اسے اپنائے اور آنے والے چیلنجز کا
مقابلہ کرنے، ایک ایسی صورتحال میں جبکہ دنیا کی بہتری جامعات چیٹ جی پی ٹی جیسی
سہولیات کے بارے میں اختلافی نکتہ نظر رکھتی ہے تو دینا کو بھی چاہئے کہ جلد بازی
کی بجائے دنیا کی بہترین جامعات کے اختیار کردہ مؤقف کو سامنے رکھے اور اسی کے
مطابق فیصلہ کرے کیونکہ پاکستان میں تعلیم و تحقیق کو معیاری بنانے کا ایک آسان
طریقہ یہی ہے کہ عالمی جامعات کی حکمت عملیوں کو مدنظر رکھا جائے توجہ طلب ہے کہ
چیٹ بوٹس کسی کی ذاتی نیوٹرز کی طرح مدد کرسکتے ہیں اور اس سے اساتذہ پر طلبہ کا
بوجھ بھی کم ہوسکتا ہے، ہم دیکھتے ہیں کہ کلاس روم میں طلبہ کی تعداد ذیادہ ہوتی
ہے اور اساتذہ کےلئے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ ہر طلبہ کو انفرادی توجہ دےسکے، اسی لئے
چیٹ بوٹس کے ذریعے طلبہ تعلیم و تفہیم کو خوش اسلوبی کے ساتھ سرانجام دے سکتے ہیںَ
چیٹ بوٹس کے ممکنہ استعمالات غلط نہیں ہے لیکن اس کا چوری چپے استعمال غلط ہے۔ ایک
ایسی ٹیکنالوجی جس کے پاس ہر سوال کا جواب موجود ہے تو یہ جوابات کم سے کم وقت میں
حاصل ہورہے ہیںَ تو اسے غنیمت سمجھتے ہوئے
طلبہ کی رہنمائی کی ضرورت ہے، اس سے طلبہ کی ذہنی صحت بہتر ہوگی۔ وہ کسی بھی موضوع
کے مختلف پہلوؤں سے ذیادہ روشناس ہوسکے گے اور اگر قابل رسائی مشاورتی خدمات کا
دائرہ وسیع کی جائے تو طلبہ کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔