سوشل میڈیا: متبادل کی دوڑ
سماجی رابطہ کاری کا مقبول ترین وسیلہ ٹوئیٹر (twitter) کی فروخت کے بعد سے پیدا ہونے والا بحرین اس وقت نئی بلندیوں پر
پہنچ گیا جب سینکڑوں ملازمین نے ٹوئٹر خریدنے والے "ایلون مسک" کے کام
جاریک رکھنے سے انکار کردیا۔ ٹوئٹر ملازمین کی ایک بڑی تعداد کا مؤقف کہ وہ دنیا
میں آزادی اظہار کےلئے کقام کررہے تھے اور انہیں کسی ارب پتی شخص کے لئے کام کرنا
پسند نہیں۔ ساتھ ہی ان ملازمین نے "ایلون مسک" کے امکان کے احکام ماننے
سے انکار کردیا ہے۔ یہ ویب سائٹ اور ادارہ 27 اکتوبر 2022 کے روز ایلون مسک نامی
کاروباری شخصیت نے 44 ارب ڈالر کے عوض خریدا۔ ٹوئٹر کے دنیا بھر میں ایک ارب
صارفین یومیہ 34 کروڑ پیغامات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ ٹوئٹر کا
استعمال کرنے والوں میں سربراہان مملکت بھی شامل ہیں اور صافتی ادارے بھی استعمال
کرتے ہوئے اسے آزادئ اظہار کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ اگرٹوئٹر کی فروخت اور
خریداری سے پیدا ہونے والا تنازعہ جلد حل نہ کیا گیا تو اس سے ٹوئٹر کی خدمات اور
کارکردگی متاثر ہوسکتی ہے جس کے بارے میں پہلے کئی ممالک میں سست ہونے کی شکایات
موصول ہورہی ہیں۔ ایلون مسک نے ٹوئٹر خریدنے کے بعد اس کے اخراجات کم کرنے کےلئے
جملہ دفاتر عملے کےلئے عارضی طور پر بند کرنے کا اعلاان کیا۔ جس کے بعد جئی ٹوئٹر
صارفین نے اپنے کھاتے (اکاؤنٹس ) ختم کرکے ٹوئٹر سے ملتے جلتے دیگر سوشل پلیٹ
فارمز پر اپنے اکاؤنٹس بنالئے ہیں۔
ذہن نشین رہے کہ ٹوئٹر ملازمین کی تعداد ساڑھے سات ہزار تھی
جنہیں کم کرکے 3750 کردیاگیا ہے۔ اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئی کئی
مائیکروبلاگنگ پلیٹ فارمز سامنے آئے ہیں جن میں ٹوئٹر کا بھارتی حریف "کوو (Koo)" بھی شامل ہے۔ ٹوئٹر کے عروج و زوال سے جو ممالک اور ادارے
اپنی اپنی خوش قسمتی تلاش کررہے ہیں اس دوڑ میں پاکستان کا نام ونشان دور دور تک
نہیں ملتا۔ پاکستان میں مائیکروبلاگنگ یا بلاگنگ کے پانچ مشہور ویب سائٹس میں
بلاگر ڈاٹ کام، میڈیم ڈاٹ کام، ورڈ پریس ڈاٹ او آر جی، اور اولیٹ شامل ہیں اور ان میں کسی یک کے حقوق بھی
پاکستان کے پاس نہیں ۔ وقت ہے کہ سوشل میڈیا یا بالخصوص بلاگنگ یا مائیکرو بلاگنگ کے شعبوں میں موجود
خلا کو پر کیا جائے جو صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ مسلم ممالک ٹوئٹر کا بہترین
متبادل سامنے لانے میں کامیاب ہوسکیں اور ٹوئٹر 2۔0 جیسا کارہائے نمایاں سرانجام
دے سکیں، جو عنقریب متعارف ہونے والا ہے۔