الیکٹرک گاڑیوں کو تیل کی طلب کم کرنے میں ایک بہت ہی اہم کھلاڑی سمجھا جاتا ہے۔ ڈنمارک کے سابق وزیر برائے موسمیاتی ، توانائی اور افادیت، ڈین جوزجینسن نے اعلان کیا، " 1.5 ڈگری والی دنیا میں تیل و گیس کا کوئی مستقبل نہیں ہے" بین الاقوامی انرجی ایجنسی (آئی۔ عی ۔ اے) نیٹ زیروایمیشن سیناریو (این۔زیڈ۔عی)نے پیشن گوئی کی ہے کہ تیل اور پیٹرول کا استعمال 2050 تک 75 فیصد تک گر جائے گا تاکہ خالص صفر اعداد حاصل کیے جاسکیں۔ ٹرانسپورٹ کا شعبہ عالمی تیل کا ایک بہت بڑا حصہ استعمال کرتا ہے ۔ اگر آب وہوا کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے تیل کی کھپت میں اتنی تیزی سے کمی آتی ہے ، تو ٹرانسپورٹ کے شعبے کو کابنائز کیا جائے۔ اس میں آٹوموٹو سیکٹر کو تیل سے کابل تجدید بجلی جیسے ہوا اور شمسی توانائی کی طرف منتقل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ الیکٹرک گاڑیاں اس ہدف کو حاصل کرنے کا ایک بہت ہی بہترین زریعہ ہے کیونکہ وہ قابل تجدید بجلی پر چلتی ہیں۔ عالمی خالص صفر ہدف کے لیے2050 تک 50 فیصد آبادی ای۔وی آبادی کی ضرورت ہے۔ اور کلین انرجی انسٹیٹیوٹ کو 2030 تک ای ۔وی کی فروخت کا 30 فیصد مارکیٹ شیئر درکار ہے ۔ 2021 میں، عالمی سطع پر ای۔وی کاروں کی فروخت 6.5 ملین یونٹس فی سال تھی۔ چین نے ہر سال تین ملین کاریں اور تیس ملین موٹرسائیکلیں فروخت کیں۔ یورپی یونین اور آمریکہ نے بالترتیب 2.5 ملین اور 10 لاکھ سے کم یونٹ فروخت کیے اس بات کو یقینی بنانا کہ ای۔ وی کی فروخت 2030 تک کل فروخت کا 30 فیصد ہو، قابل تجدید توانائی کے ہدف سے مماثل ہے۔ کسی کو یقین نہیں ہے کہ آیا 30 فیصد ہدف ای۔ویز بشمول فوروہیلر میں حاصل کیا جاسکتا ہے، لیکن یہ تب ممکن ہے جب 30 فیصد مارکیٹ شیئر یا اس سے بھی ذیادہ ٹووہیلر گاڑیوں کے معاملے میں حاصل کیا جاسکتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ سالانہ فروخت 20 لاکھ یونٹ اور گاڑیوں کی آبادی 20 ملین دونوں لحاظ سے ٹو وہیلر کی ایک بڑی بڑھتی ہوئی مارکیٹ آر او جی آٹھ فیصد ہے، اور یہ سادہ ٹیکنالوجی ہے۔ موٹر سائیکلیں پاکستان کی سالانہ ضرورت کا 40 فیصد استعمال کرتی ہیں ۔ ای۔ویز نسبتاَ پرسکون اور چلانے میں بھی آسان ہیں اور ان میں کوئی گیئر یا کلچ نہیں ہوتا۔ انہیں برقرار رکھنابھی آسان ہے کیونکہ ان کو کسی قسم کے تیل یا فلٹر کی تبدیلی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان کے پاس پک اپ بھی ذیادہ ہے اور وہ الیکٹرانک کنٹرولز سے لیس ہوتی ہیں جن میں سے کچھ میں ملی بھگت مخالف اور حفاظتی خصوصیات ہیں۔ ڈرائیوروں کو پیٹرول پمپس پر جانے کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ یہ گاڑیاں گھر پر ہی مخصوص ہوم چارجرز کی مدد سے چارج کی جا سکتی ہیں، لیکن ان کو چارج کرنے کے لئے تین سے چار گھنٹے درکارہوتے ہیں۔ اور فی چارج 100 کلومیٹر کی عام حد ہوتی ہے۔ یہ ان لوگوں کےلئے ایک نقصان ہوسکتا ہے جو ایک دن میں طویل سفری سرگرمیاں رکھتے ہیں۔ آٹوموٹو کے شعبے میں خاص طور پر ای ۔ویز کے شعبے میں نت نئی ترقی ہوئی ہے۔ قائم کردہ برانڈز اپنے قدم کھورہے ہیں ، اور نئے کھلاڑی ابھر کر سامنے آرہے ہیں، خاص طور پر چین سے باہر چینی مصنوعات بھی سستی ہیں۔ توقع ہے کہ یہ نئے اور سستے برانڈز ترقی پذیر ممالک میں قائم ہونگے، جس کے بارے میں پہلے کبھی نہیں سوچا جاسکتا تھا۔ اس سے پاکستان جیسے ممالک کے لئے مقامی سطع پر بنانے کے مواقعے پیدا ہونگے۔ اس سلسلے میں ای ۔ وی موٹرسائیکلوں کی تیاری کا ذیادہ امکان ہے۔ 1970 کی دہائی میں جاپان آٹوموٹیو سیکٹر میں یورپیوں کی جگہ لے کر ایک رہنما کے طور پر اُبھر ا۔ ایسا لگتا ہے کہ ای۔وی کے معاملے میں اگر کل آٹوموٹیو سیکٹر نہیں۔ تو نیا لیڈر چین ہوگا۔ ایک بڑی چینی کارساز کمپنی بی ۔وائی۔ڈی ، یورپ اور آمریکہ کو ای۔ویز بسیں برآمد کررہی ہے اور شائد اس علاقے میں سب سے بڑا کارخانے دار بھی ہے۔
ای۔وی حصوں جیسے بیٹریوں کی سپلائی میں چین کا
مارکیٹ شیئر پہلے 74 فیصد ہے ۔ پاکستان میں فور وہیلر مارکیٹ پر دو یا تین سرکردہ
جاپانی مینوفیکچرز نے بغیر کسی سنجیدہ کوشش کے مارکیٹ کو مقامی بنانے کی اجارہ
داری بنا رکھی ہے۔ حالانکہ کہ سوزوکی کمپنی نے مقامی سطع پر بنانے میں قلیدی کردار ادا کیاہے۔ یہ منصفانہ طور پر ،
بڑے بازار کے سائز اور آسان مصنوعات کی وجہ سے گاہکوں کی قوت خرید اور رویہ سے
مطابقت رکھتا تھا۔ آج ایک یا دو چینی کمپنیاں ای وی انڈسٹری اور مارکیٹ کی ترقی
میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت دنیا میں برقی
گاڑیوں کا رجحان ہے ۔ پیٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیاں جلد ہی ماضی کا حصہ بن
جائیگی ۔