ٹیکنالوجی: انسانیت کا مستقبل
مصنوعی
ذہانت اور ٹیکنالوجی نے انسانیت کے بہتر مستقبل کی امید پیدا کی ہے۔ اکیسویں صدی
کا یہ انقلاب ہر شعبہ ہائے زندگی کو کسی نہ کسی صورت متاثر کررہا ہے۔ حال ہی میں
شائع ہونے والی ایک کتاب کے مصنف مصطفیٰ سلیمان نے "نئی ٹیکنالوجیز اور
چیلنجز کے ذریعے انسانی ترقی کا امکانات" کا جائزہ پیش کیا ہے۔ ان کی کتاب
نئی ٹیکنالوجی یونی ایجادات کا احاطہ کرتے ہوئے ان کے خطرات پر عالمی بحث سے متعلق
ہے۔ ہنری کسینجر، ایرک شمٹ اور ڈینیل ہٹنلوکر کی مشترکہ تحریر کردہ یہ کتاب بعنوان
"دی ایچ آف آے ٹی اینڈ آور ہیومن فیوچر" کے نام سے کتاب 2021 میں شائع
ہوئی اور تب سے مختلف حلقوں میں زیر بحث بنی ہوئی ہے اور حقیقت مصنوعی ذہانت کی
کامیابیاں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب مصنوعی ذہانت چند برس میں انسانوں سے
زیادہ زیر استعمال ہوجائیں گی۔ جدید ٹیکنالوجینے لوگوں کو بااختیار زندگیوں کو
بہتر بنانے، پیداواری صلاحیت میں اضافے، طبی اور سائنسی علم کو آگے بڑھانے اور
معاشروں کو تبدیل کرنے جیسے متعدد مثبت پیشرفتوںؐ کو تقویت دی ہے۔ تکنیکی ترقی نے
بےمثال سماجی اور معاشی ترقی کو فروغ دینے میں بھی مدد کی ہے لیکن جدید ٹیکنالوجیز
سے نئی کمزوریوں اور نقصان وہ نتائج پیدا ہوئے ہیں، جن کو ابھی تک کم یا مؤثر
طریقے سے سمجھا اور حل نہیں کیا جاسکا ہے۔
مصنف مصطفیٰ سلیمان کے مطابق "ٹیکنالوجی کی لہر نے انسانی تاریخ کو ایک اہم موڑ پر کھڑا" کیا ہے اور اس کی آنے والی لہر زیادہ مشکل ہوگی۔ مصنوعی ذہانت کا استعمال کرنے والے بائیوٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے والے زیادہ سرمایہ کما ئیں گے لیکن اس سے منفی اثرات پھیلیں گے، یہاں تک کہ "ناقابل تصور حد تک تباہی پھیلے گی"۔ مصنفین کا اتفاق ہے کہ مصنوعی ذہانت اکیسویں صدی کا عظیم میٹا مسئلہ ہے جسے ایک فکر انگیز کتاب میں خطرات کی صورت پیش کیا گیا ہے۔ مصطفیٰ سلیمان کی بنیادی تشویش یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار کو کس طرح محدود کیا جائے تاکہ یہ انسانیت کی خدمت کرے اور انسانیت کو نقصان نہ پہنچائے۔ مصطفیٰ سلیمان کے نزدیک انسانی تاریخ کو مختلف ادوار میں تقسیم کرکے ایک سلسلے کے طور پر بیان کیا جاسکتا ہے۔ کئجب نھودی دور مسئلہ یہ ہے کہ اس میں ایک سے زیادہ عوامل اور ٹیکنالوجیز مل کر کام کرتی ہیں۔ جس کے گہرے معاشرتی مضمرات ہیں۔ انہوں نے ٹیکنالوجی کی تاریخ بیان کی ہے اور بتایا ہے کہ کس طرح یہ مطلوبہ اور غیرارادی طور پر پُرخطر نتائج کی حامل ہے اور اس سے روک تھام کے چیلنجز نے جنم لیا ہے۔ وہ ٹیکنالوجی سے درپیش ناگزیر چیلنجز کو بھی بیان کرتے ہیں کہ اس سے نت نئی ایجادات پر کنٹرول نہیں رہا اور ایجادات کے استعمالات بھی کنٹرول میں نہیں۔ یہ ایک غیر متوقع صورتحال ہے جس سے بچنا مشکل دکھائی دے رہا ہے کیونکہ تاحال انسانیت نے ٹیکنالوجیز سے درپیش خطرات کو پوری طرح سمجھا ہی نہیں ہے کہ اس سے انتقامی اثرات بھی جنم لےسکتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ ٹیکنالوجی اپنے اصل مقصد کی بجائے غلط سمت میں سفر کررہی ہے۔ ٹیکنالوجی ہمیشہ مسائل پیدا کرتی ہے اور معاشرے پر اس کے نقصان دہ اثرات روکنے کےلئے روک تھام ایک ضروری بلکہ ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔ اس کے باوجود روک تھام کا مسئلہ حل نہیں ہوا لیکن سلیمان کے مطابق یہ ایک استثنیٰ ہے۔ جوہری ٹیکنالوجی، جو تاریخ میں سب سے زیادہ موجود ٹیکنالوجیز میں سے ایک ہے۔ اس کے پھیلاؤ کو جوہر ی طاقتوں کی عدم پھیلاؤ کی پالیسی کی وجہ سے توکا گیا ہے جو ان کے تباہ کن اثرات کے بارے میں خدشات کے باعث ہے۔ اس کے علاوہ جوہری ہتھیار انتہائی پیچیدہ اور تیار کرنے کےلئے مہنگے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے ارتقاء کے بارے میں مصنفین کا نکتہ نظر ہے کہ اس سے مصنوعی حیاتیات پیدا ہوں گی کیونکہ یہ ٹیکنالوجیز دنیا کے دو بنیادی اصولوں ذہانت اور زندگی سے متعلق ہیں اور اس سے غیرمعمولی طور پر نئے شعبوں میں ترقی ہورہی ہے۔ انجینئرنگ کے نت نئے رجحانات پیدا ہورہے ہیں اور یہ انسانی ذہانت سے بھی آگے بڑھ رہی ہے جو اپنی جگہ خطرہ ہے۔ مصنوعی ذہانت کے محور کے طور پر کام کرنے والی موجودہ تکنیکی لہر پر اگر موجودہ ابتدائی دور میں قابو نہ پالیا گیا تو مستقبل میں اس پر قابو پانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوجائےگا، لیکن سلیمان مصطفیٰ لکھتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کو سمجھنا اس کے مضمرات کا درست اندازہ لگانے کی سمت پہلا قدم ہوگا، خاض طور پر جب بڑے پیمانے پر مصنوعی ذہانت آخری حدوں سےبڑھ جائے گی۔ مذکورہ کتاب میں بائیوٹیکنالوجی اور جینیائی انجینئرنگ میں ہونے والی پیشرفت کی تفصیل بھی دی گئی ہے، جس میں غیرمعمولی رفتار سے ترقی ہورہی ہے اور "مصنوعی زندگی کے نئے دور" کا آغاز ہورہا ہے لیکن دیگر تبدیلی لانے والی ٹیکنالوجیز، جیسا کہ روبوٹکس اور کوانٹم کمپیوٹنگ بھی اس نئی لہر کا حصہ ہیں۔