گوگل کا مصنوعی ذہانت کے آگے جکاؤ

سان فرانسسکو گوگل نے مصنوعی ذہانت پر مبنی گفتگو کرنے والے پرگرام کو گوگل سرچ میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے جسے باضابطہ طور پر گوگل آئی او کانفرنس کی تقریب میں پیش کیا جائیگا، یہ ایک طرح کا جدید ترین چیٹ بوٹ ہے جسے "میکی" کانام دیا گیا ہے۔ ڈویلپر نے اسے چیٹ جی پی ٹی کی طرز پر بنایا ہے ، اس سے قبل مائکروسوفٹ نے اپنے بنگ براؤزر میں چیٹ جی پی ٹی شامل کرنےکا اعلان کیا تھا تاہم اس پر عملدرآمد اب تک نہیں ہوسکا، یہی وجہ ہے کہ گوگل نے طوری طور پر میکی پر کام شروع کیا اور دوسری جانب بارڈ جیسا اے ائی منصوبہ بھی شروع کیا ہے تاہم اس کی مزید تفصیلات 10 مئی 2023 کی تقریب میں یا اس کے بعد سامنے آسکیں گی، دوسری جانب تجزیہ نگاروں نے کہا ہے کہ اس طرح سرچ کا دائرہ  خاصہ واسیع ہوجائے گا جن میں سوشل میڈیا پوسٹ، مٰختصر ویڈیو اور اے آئی پر مبنی گفتگو بھی شامل ہے، وال سٹریٹ جرنل کے مطابق گوگل چاہتا ہے کہ ویب پر روایتی طور پر لنکس، تصاویر اور ویڈیو کی بجائے اسے مزید بہتر اور انسانی روپ دیا جاسکے، تجزیہ کاروں کے مطابق اس سہولت کی بدولت اب تک ٹک ٹاک ویڈیو کے اندر سرچ کرنا بھی آسان ہوجائے گا، یوٹیوب گوگل کی ملکیت کی وجہ سے اس منصوبے میں شامل ہے۔


DEPARTMENT OF EDUCATION AND ARTIFICIAL INTELLIGENCE

 

Major language models (LLMs) of chatbots such as ChatGPT are undergoing a formative phase. How this rise of chatbots is affecting the education sector and the effects of artificial intelligence on teaching and learning are also being discussed on various topics. Jet boats have been influencing workplaces and especially the education sector for the past few months. With the significant potential use of chatbots in higher education, it is not surprising that students are considering the use of technology and the use of artificial intelligence sources. Students may try to present the output generated by jetbots like ChatGPT as their original work and this will affect the quality of teaching and research. In its place, this is an important and legitimate concern that not only Pakistan but universities all over the world are facing. The Russell Group, which is equivalent to the USIV, League in Britain, has twenty-four elite universities. It has been decided to ban students from using chatbots such as ChatGPT at the institutions under its supervision, including Oxford, Cambridge, Edinburgh, Manchester, Brisnel and other countries, as well as for essay writing and coursework in 40 UK universities. Because students are banned from using Chat GPT, this initial policy stance on artificial intelligence is one-sided and will surely be revised in the coming times because the way in which the use of artificial intelligence is growing cannot be ignored. Nor can there be any escape from it. Decision makers in the education sector should look at things like artificial intelligence with open eyes and strategize for the unlimited use of its capabilities rather than limited use. . Attention is drawn to the fact that the use of artificial intelligence can revolutionize the fields of education and research. In this regard, a few universities have adopted a different approach that should be taken into account. Here's What, Glasgow University and University College London. It is among the few universities developing guidelines to allow the use of ChatGPT by students under certain circumstances. Higher Education in Pakistan has formed a task force on the use of ChatGPT to develop a policy for its use in universities, but it remains to be seen what the results will be and whether these guidelines will be implemented in Pakistan. Will there be an attempt to implement it uniformly on all universities or not? However, three concerns should be kept in mind in this regard. The first is that Pakistan lacks skilled teachers to catch copycats through technology and there is a fear that not only education and research but also the quality of teaching will deteriorate. The bottom line is that whenever a policy is formulated in Pakistan, it becomes impossible to revise or modify it. An important example in the context of higher education is the term track system of HEC for the appointment and promotion of university faculty members. Despite the apprehensions, TTS was implemented and it would take nearly fifteen years for HEC to iron out some of the loopholes. The third and last thing is that the decision makers related to education at the federal level have the data related to the universities, but they do not have the knowledge and experience of the ground realities and situations. How can any decision be justified in such a case when it is not prepared keeping in mind the facts on the ground. It is suggested that the Higher Education Commission may use ChatGPT to determine eligibility for departmental promotion under TTS and the quality of research and publications can be easily determined through artificial intelligence. Research papers can be prepared in less time through chat GPT, here too it would be wise for HEC to embrace technology instead of chasing it and meet the challenges ahead, in a situation where the world Better universities have a different point of view about facilities like Chat GPT, then Dina should also put forward the position adopted by the best universities of the world and decide accordingly, because education and research in Pakistan A simple way to standardize is to take into account the strategies of global universities. Noting that chatbots can be as helpful as one's personal moderators and can also reduce the student burden on teachers, we see that The number of students in the classroom is high and it is not possible for the teachers to give individual attention to each student, so through chatbots students can carry out education and understanding in a pleasant manner. The potential uses of chatbots are not wrong. But its stealthy use is wrong. A technology that has the answer to every question, then these answers are being obtained in the least time, then it needs to be guided by the students considering it as a trophy, it will improve the mental health of the students. They will be more exposed to various aspects of any subject and if the scope of counseling services accessible is widened, the welfare of the students can be ensured.

 

شعبہ تعلیم اور مصنوعی ذہانت

چیٹ جی پی ٹی جیسے چیٹ بوٹس کے بڑے لینگویج ماڈلز (ایل ایل ایمز) تشکیلی و ترتیبی براحل سے گزر رہے ہیں۔ چیٹ بوٹس کا یہ عروج شعبہ تعلیم پر کس طرح اثرانداز ہورہا ہے اور مصنوعی ذہانت کے درس و تدریس پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں اس حوالے سے بھی متعدد موضوعات پر بحث جاری ہے۔ جیٹ بوٹس گزشتہ چند ماہ سے کام کاج کی جگہوں اوربالخصوص شعبہ تعلیم پر اثرانداز ہورہا ہے ۔ اعلیٰ تعلیم میں چیٹ بوٹس کے نمایاں ممکنہ استعمال کیساتھ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ طلبہ ٹیکنالوجی سے مدد لیں اور مصنوعی ذہانت کے ذرائع کے استعمال پر تبقادلہ خیال بھی کررہے ہوں، اس سلسلے میں سطحی یا عمومی بحث اس تشویش پر مرکوز ہے کہ طلبہ چیٹ جی پی ٹی جیسے جیٹ بوٹس کے ذریعہ پیدا کردہ آؤٹ پُٹ کو اپنے اصل کام کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں اور اس سے تعلیم و تحقیق کا معیار متاثر ہوگا۔ اپنی جگہ یہ اہم و جائز تشویش ہے جس سے صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی یونیورسٹیاں نبرآزما ہیںَ رسل گروپ جو برطانیہ میں یو ایس آئی وی، لیگ کے مساوی ہے اس کی چوبیس ایلیٹ یونیورسٹیاں ہیں۔ آکسفورڈ، کیمبرج، ایڈنبرا، مانچسٹر برسنل اور دیگر ممالک سمیت اس کی زیرنگرانی اداروں میں طلبہ پر چیٹ جی پی ٹی جیسے چیٹ بوٹس کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، یوں برطانیہ کی چالیس یونیورسٹیوں میں مضمون نگاری  اور کورس ورک کے لئے طلبہ پر چیٹ جی پی ٹی کے استعمال پر پابندی عائد ہے، مصنوعی ذہانت کے متعلق یہ ابتدائی پالیسی مؤقف یکطرفہ ہے جس پر یقیناً آنے والے وقتوں میں نظرثانی ہوگی کیونکہ مصنوعی ذہانت کا استعمال جس انداز سے بڑھ رہا ہے اس نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس سے کوئی راہ فرار اختیار کی جاسکتی ہے، شعبہ تعلیم کے فیصلہ سازوں کو چاہئیے کہ مصنوعی ذہانت جیسی چیزوں کو وہ کھلی آنکھوں سے دیکھے اور اس کی صلاحیتوں سے محدود استفادہ حاصل کرنے کی بجائے لامحدود استفادے کے حوالے سے حکمت عملی واضع کریں۔ توجہ طلب ہے کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے تعلیم و تحقیق کے شعبوں میں انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے، اس حوالے سے چند جامعات نے مختلف نقطہ نظر بھی اپنایا ہے جسے پیش نظر رکھنا چاہئے، ہیر یوٹ واٹ، گلاسکو یونیورسٹی اور یونیورسٹی کالج لندن ان چند یونیورسٹیوں میں شامل ہے جو بعض حالات میں طلبہ کی طرف سے چیٹ جی پی ٹی کے استعمال کی اجازت دینے کےلئے رہنما اصول تیار کررہی ہے۔ پاکستان میں ہائر ایجوکیشن نے چیٹ جی پی ٹی کے استعمال کے حوالے سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی ہے تاکہ یونیورسٹیوں میں اس کے استعمال کےلئے پالیسی تیار کی جاسکے تاہم یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ ان کے نتائج کیا برآمد ہونگے اور کیا یہ رہنما اصول پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں پر یکساں نافذ کرنے کی کوشش کی جائےگی یا نہیں۔ تاہم اس حوالے سے تین خدشات پیش نظر رکھنا چاہیئے۔ پہلا یہ کہ پاکستان کے پاس ٹیکنالوجی کے زریعے نقل کرنے والوں کو پکڑنے کے لئے ماہر اساتذہ کی کمی ہے اور ایسی صورت میں اندیشہ ہے کہ صرف تعلیم و تحقیق بلکہ تدریس کا معیار خراب ہوگا۔ دوری بات یہ ہے کہ پاکستان میں جب کبھی بھی کوئی پالیسی تیار ہوتی ہے تو اس پر نظرثانی یا اس میں ترمیم کرنا ناممکن حد تک مشکل و دشوار ہوجاتا ہے۔ ہائر ایجوکیشن کے تناظر میں ایک اہم مثال یونیورسٹی فیکلٹی ممبران کی تقرری اور ترقی کےلئے ایچ ای سی کے ٹرم ٹریک سسٹم کی ہے، جس کسی نے بھی تعلیمی شعبے میں چند سال ملازمت کی ہوگی اس اس ملازمتی پالیسی میں خامیاں نظر آرہی ہونگی، لیکن تمام تر خدشات کےباوجود ٹی ٹی ایس پر عمل درآمد کیا گیا اور ایچ ای سی کو چند خامیاں دور کرنے میں قریب پندرہ سال کا عرصہ لگے گا۔ تیسری اور آخری بات یہ ہے کہ وفاقی سطح پر تعلیم سے متعلق فیصلہ سازی کرنے والوں کے پاس جامعات سے متعلق اعداد وشمار تو ہوتے ہیں لیکن انہیں زمینی حقائق و صورتحال کا علم و تجربہ نہیں ہوتا۔ ایک ایسی صورت میں کوئی بھی فیصلہ کس طرح درست ثابت ہوسکتا ہے جبکہ وہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے نہ تیار کیا گیا ہے۔ تجویز ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن ٹی ٹی ایس کے تحت محکمانہ ترقی کےلئے اہلیت کا تعین کرنے میں چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کرسکتا ہے اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے تحقیق اور مطبوعات کے معیار کا تعین باآسانی ممکن ہے۔ چیٹ جی پی ٹی کے ذریعے کم وقت میں تحقیقاتی مقالے تیار کئے جاسکتے ہیں، یہاں بھی ایچ ای سی کےلئے دانشمندانہ طرزعمل ہوگا کہ وہ ٹیکنالوجی سے پیچھا چھڑانے کی بجائے اسے اپنائے اور آنے والے چیلنجز کا مقابلہ کرنے، ایک ایسی صورتحال میں جبکہ دنیا کی بہتری جامعات چیٹ جی پی ٹی جیسی سہولیات کے بارے میں اختلافی نکتہ نظر رکھتی ہے تو دینا کو بھی چاہئے کہ جلد بازی کی بجائے دنیا کی بہترین جامعات کے اختیار کردہ مؤقف کو سامنے رکھے اور اسی کے مطابق فیصلہ کرے کیونکہ پاکستان میں تعلیم و تحقیق کو معیاری بنانے کا ایک آسان طریقہ یہی ہے کہ عالمی جامعات کی حکمت عملیوں کو مدنظر رکھا جائے توجہ طلب ہے کہ چیٹ بوٹس کسی کی ذاتی نیوٹرز کی طرح مدد کرسکتے ہیں اور اس سے اساتذہ پر طلبہ کا بوجھ بھی کم ہوسکتا ہے، ہم دیکھتے ہیں کہ کلاس روم میں طلبہ کی تعداد ذیادہ ہوتی ہے اور اساتذہ کےلئے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ ہر طلبہ کو انفرادی توجہ دےسکے، اسی لئے چیٹ بوٹس کے ذریعے طلبہ تعلیم و تفہیم کو خوش اسلوبی کے ساتھ سرانجام دے سکتے ہیںَ چیٹ بوٹس کے ممکنہ استعمالات غلط نہیں ہے لیکن اس کا چوری چپے استعمال غلط ہے۔ ایک ایسی ٹیکنالوجی جس کے پاس ہر سوال کا جواب موجود ہے تو یہ جوابات کم سے کم وقت میں حاصل ہورہے ہیںَ  تو اسے غنیمت سمجھتے ہوئے طلبہ کی رہنمائی کی ضرورت ہے، اس سے طلبہ کی ذہنی صحت بہتر ہوگی۔ وہ کسی بھی موضوع کے مختلف پہلوؤں سے ذیادہ روشناس ہوسکے گے اور اگر قابل رسائی مشاورتی خدمات کا دائرہ وسیع کی جائے تو طلبہ کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

 

FREEDOM OF EXPRESSION: ACCESS TO INFORMATION AND THE FUTURE

 

Internet freedom and democracy are closely related to each other because the Internet has become a part of democratic values and in today's history, freedom of expression, access to information, and decision-making without the participation of all private and public in the political process are comprehensive and comprehensive. The lesser right of public opinion cannot be a spokesperson and representative. In recent years, there have been many examples of using the Internet to promote democracy, such as social media being used to organize protests and voter mobilization, and using online platforms to increase transparency and accountability in government affairs. Growing, however, there are concerns about the Internet being misused and used to spread propaganda, and governments are using "online tools" to influence public opinion. Overall, the relationship between Internet freedom and democracy is complex and has a mix of positives and negatives, and a free Internet is universally seen as a component of a healthy democracy. A recent annual survey of facts on "internet freedom" globally states that India tops the list of countries with the most internet restrictions (bans) during 2022, and India's internet ban ( The unique honor regarding shutdown) has been going on for five consecutive years. In the said research conducted by the non-governmental organizations "Access Now" and "Keep It On", working for restriction-free internet, 187 times internet shutdowns were recorded in India in 365 days of 2022. After India, the second country in terms of internet ban is Ukraine, where internet shutdowns were implemented 22 times during the ongoing war.

Many other South Asian countries are also in this list. Internet outages in India have occurred more than 20 times in Indian-administered Kashmir. The report states that under the Indian Telecommunications Bill, the central and provincial governments can shut down the Internet when necessary and have constitutionally unlimited powers to impose such bans. Advocates and supporters of a free Internet worldwide want the Constitution to protect its free and uninterrupted provision of the Internet instead of banning it. In many countries it has become a norm to shut down the internet to control the internal law and order situation or during various types of conflicts, gatherings, elections and even in some countries on the occasion of exams. The internet blackout imposed by the government of the African country of Ethiopia in the troubled region of Tigray was the world's longest shutdown, lasting more than two years. Different countries have different ideas about Internet freedom. Unfettered Internet access in a few countries, while the majority of countries want to maintain their grip on the Internet and can censor and control online content with limited restrictions. According to the report "Freedom on We Net" compiled by "Freedom House", an organization that evaluates Internet freedom, as the Internet is fast and spreading, the restrictions imposed on it are also increasing, and China is the country with regard to Internet restrictions. is at the top of the list of countries with strict internet policies. Due to the continued increase in "online censorship" and surveillance due to the Corona epidemic, governments are using it to crack down on freedom of expression, and it is generally described as a national security requirement, which is why the Internet worldwide. Freedom is at risk, but there are countries where the Internet is free from all restrictions. A possible question in the context of this entire debate is what is the future of the Internet? As more and more people around the world are connected to the Internet, instead of separate laws for the development and access to this resource, the need for a global law is being felt. It should also determine the ratio of investment growth as the need for better broadband and quality mobile phone networks has now spread from education to healthcare delivery and governance, and not only development needs and development issues can be communicated between countries through the Internet. New possibilities of cooperation are being created, but through the same internet, help is also being taken in making correct decisions to deal with natural disasters or any kind of emergency. Today's Internet has evolved beyond artificial intelligence into a combination of advanced artificial intelligence and data science, with applications ranging from chatbots and virtual assistants to decision-support computers popularizing consumer privacy and security on the Internet. So it is getting more attention today than in the past. Likewise, virtual and augmented reality technologies are seeing widespread use, creating new opportunities for immersive experiences and online collaboration. For a large number of Internet users, this medium is only a source of social media and online entertainment, and the number of such users (communicates) who depend on the Internet is increasing. Overall, the future of the Internet is being shaped by a combination of technological advances and changing socio-cultural trends.

  

آزادی اظہار: معلومات تک رسائی اور مستقبل

انٹرنیٹ کی آزادی اور جمہوریت کا ایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعلق ہے کیونکہ انٹرنیٹ جمہوری اقدا ر کا حصہ بن چکا ہے اور آج کی تاریخ میں اظہار آزادی ، معلومات تک رسائی اسر سیسی عمل میں ہر خاص و عام کی شرکت کے بغیر فیصلہ سازی جامع اور عومی رائے کی کم حقہ ترجمان و نمائندہ نہیں ہوسکتی۔ حالیہ برسوں میں انٹرنیٹ کو جمہوریت کے فروغ کےلئے استعمال کرنے کی کئی مثالیں سامنے آئی ہیں جیسا کہ سوشل میڈیا کو احتجاج منظم کرنے اور ووٹروں کو متحرک کرنے کےلئے استعمال کیا جارہا ہے اور حکومتی امور میں شفافیت و احتساب بڑھانے کےلئے آن لائن پلیٹ فارمز کا استعمال فروغ پا رہا ہے تاہم انٹرنیٹ کو  غلط استعمال کئے جانے کے بارے میں خدشات  اور پروپیگنڈا پھیلانے کےلئے استعمال کئے جانے کے بارے میں خدشات و تحفظات اپنی جگہ موجود ہیں اور حکومتیں عوامی رائے کو متاثر کرنے کےلئے "آن لائن ٹولز" کا استعمال کررہی ہیں۔ مجموعی طور پر انٹرنٹ کی آزادی اور جمہوریت کے درمیان تعلق پیچیدہ ہے اور مثبت و منفی دونوں کا مجموعہ ہے اور عالمی سطح پر آزاد انٹرنیٹ صحتمند جمہوریت کے جزو کے طور پر دیکھاجاتا ہے۔ عالمی سطح پر "انٹرنیٹ آزادی" کے حوالے سے حقائق پر مبنی حالیہ سالانہ جائزے میں کہا گیا ہے کہ سال 2022 کے دوران جن ممالک میں سب سے زیادہ انٹرنیٹ پر پابندیاں (قدغنیں)لگائی گئیں ان میں بھارت سرفہرست ہے اور بھارت کا انٹرنیٹ پابندی (شٹ ڈاؤن) کے حوالے سے منفرد اعزاز مسلسل پانچ برس سے جاری ہے۔ پابندیوں سے آزاد انٹرنیٹ کےلئے کام کرنے والے غیر سرکاری تنظیوں "ایکسیس ناؤ" اور "کیپ اِٹ آن" کے استراک سے کی جانی والی مذکورہ تحقیق میں سال 2022 کے 365 دنوں میں بھارت میں 187مرتبہ انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن ریکارڈ ہوئے۔ بھارت کے بعد انٹرنیٹ پابندی کے حوالے سے دوسرا ملک یوکرین ہے جہاں جاری جنگ کے دوران بائیس مرتبہ انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن نافذ کئے گئے۔

جنوبی ایشیاء کے کئی دیگر ممالک کے بھی اس فہرست میں نام موجود ہیں۔ بھارت میں انٹرنیٹ بندش زیادہ تر بھارت کے زیرتسلط کشمیر میں انچاس مرتبہ ہوئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انڈین ٹیلی کمیونیکشن بل کے تحت مرکزی اور صوبائی حکومتیں ضرورت پڑنے پر انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن کرتی ہیں اور انہیں آئینی طور پر اس قسم کی پابندی عائد کرنے کے غیر محدود اختیارات حاصل ہیں۔ عالمی سطح پر آزاد انٹرنیٹ کی وکالت اور حمایت کرنے والے چاہتے ہیں کہ آئین کے ذریعے انٹرنیٹ پر پابندی عائد کرنے کی بجائے اس کے آزادانہ و بلاتعطل فراہمی کو آئینی تحفظ دیا جائے۔ بہت سے ممالک میں امن و امان کی داخلی صورتحال پر قابو پانے یا مختلف قسم کے تنازعات، اجتماعات، انتخابات حتیٰ کہ بعض ممالک میں امتحانات کے موقع پر بھع انٹرنیٹ بند کرنا ایک معمول بن گیا ہے۔ افریقی ملک ایتھوپیا کی حکومت کی جانب سے شورش زدہ علاقے تیگرے میں عائد کیے جانے والے انٹرنیٹ بلیک آوٹ دنیا کا طویل ترین شٹ ڈاؤن تھا جو دو سال سے زائد عرصے تک جاری رہا ۔ انٹرنیٹ کی آزادی کے حوالے سے الگ الگ ممالک میں مختلف قسم کی سوچ پائی جاتی ہے۔ چند ممالک میں انٹرنیٹ بلا روک ٹوک رسائی جبکہ ممالک کی اکثریت چاہتی ہے کہ ان کی انٹرنیٹ پر گرفت برقرار رہے اور اس سلسلے میں محدود پابندیاں عائد کرتے ہوئے آن لائن مواد کو سنسر اور کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ انٹرنیٹ آزادی کا جائزہ لینے والے ایک ادارے "فریڈم ہاؤس" کی مرتب کردہ رپورٹ "فریڈم آن وی نیٹ" کے مطابق جیسے جیسے انٹرنیٹ تیز اور پھیل رہا ہے ویسے ویسے اس پر عائد پابندیوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے اور انٹرنیٹ پابندیوں کے حوالے سے چین کا نام ان ممالک کی فہرست میں سب سے اوپر ہے جہاں انٹرنیٹ کے حوالے سے سخت پالیسی نافذ ہے۔ کورونا وبا کیوجہ سے "آن لائن سنسرشپ" اور  نگرانی میں مسلسل اضافے کی وجہ سے حکومتیں اسے اظہار رائے کی آزادی پر کریک ڈاؤن کرنے کےلئے استعمال کررہی ہیں اور اسے عموماً قومی سلامتی کی ضرورت قرار دیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں انٹرنیٹ پر آزادی خطرات سے دوچار ہے تاہم ایسے ممالک بھی ہیں جہاں انٹرنیٹ ہر قسم کی پابندیوں سے آزاد ہے۔ اس پوری بحث کے تناظر میں ممکنہ سوال یہ ہوسکتا ہے کہ  انٹرنیٹ کا مستقبل کیا ہے؟ جیسے جیسے دنیا بھر میں زیادہ سے زیادہ لوگ انٹرنیٹ سے جڑ رہے یں تو اس وسیلے کی ترقی اور اس تک رسائی کےلئے الگ الگ قوانین کی بجائے ایک عالمی قانون کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے جوانٹرنیٹ صارفین  کے حقوق کے تحفظ کے ساتھ اس شعبے میں حکومتی سرمایہ کاری میں اضافے کا تناسب بھی مقرر کرے کیونکہ اب بہتر براڈپیڈ اور معیاری موبائل فون نیٹورکس کی ضرورت درس و تدریس سے لیکر علاج معالجے کی فراہمی اور طرز حکمرانی تک پھیل گئی ہے اور ممالک کے درمیان انٹرنیٹ کے ذریعے نہ صرف ترقیاتی ضروریات اور ترقیاتی امور میں تعاون کے نت نئے امکانات پیدا ہورہے ہیں بلکہ اسی انٹرنیٹ کے ذریعے قدرتی آفات یا کسی بھی قسم کے ہنگامی حالات سے نمٹنے کےلئے درست فیصلہ سازی میں بھی مدد لی جارہی ہے۔ آج کا انٹرنیٹ مصنوعی ذہانت سے ایک قدم آگے جدید مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سائنس کا مجموعہ بن چکا ہے جس میں چیٹ پوٹس اور ورچوئل اسسٹنٹس سے لےکر فیصلہ سازی میں معاون کمپیوٹرز ایپلی کیشنز مقبول ہیں جہاں تک انٹرنیٹ پر صارفین کی پرائیویسی اور سیکیورٹی کا تعلق ہے تو اس پر ماضی کے مقابلے میں آج زیادہ توجہ دی جارہی ہے۔ اسی طرح ورجوئل اور اگمنٹڈ رائیلٹی ٹیکنالوجیز کا وسیع استعمال بھی دکھائی دے رہا ہے، جس سے شاندار تجربات اور آن لائن  تعاون کے نئے مواقع پیدا ہورہے ہیں۔ انٹرنیٹ صارفین کی بڑی تعاد کےلئے یہ ذریعہ صرف سشل میڈیا اور آن  لائن تفریح کا ذریعہ ہے اور انٹرنیٹ پر انحصارکرنے والے اس قسم کے صارفین (کمیونیٹز) کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو انٹرنیٹ کا مستقبل تکنیکی ترقی اور بدلتے ہوئے سماجی و ثقافتی رجحانات کے امتزاج سے تشکیل پا رہا ہے۔

ARTIFICIAL INTELLIGENCE V/S HUMAN IMAGINATION

 

There are no limits to the constructive and destructive use of the successful experiment of equipping computers with artificial intelligence, but the real competition is between artificial intelligence and human imagination. During the existence of man on the planet, the need of every era was to be able to deal with the surrounding environment and in this effort artificial intelligence-based methods have been introduced, including Chat GPT and it is considered a revolutionary concept. It will not be wrong if it is given. Everything new that man has achieved in his journey from taking refuge in a cave to becoming a society is the result of the same evolutionary process whose products are used in homes today. That it will be good for humanity. The teaching and learning process should be easy and the technology should also take into account the feelings in decision making which can be considered as the result of this whole effort. Man's natural weakness is that he believes in conspiratorial and negative theories in reaching a quick conclusion. In a case, negative thinking is actually a way of thinking and looking at situations from a different angle, which makes the decision or action to be taken more beneficial. Humans have equipped the computer with artificial intelligence, but they have not equipped it with the ability to think like humans and to critically evaluate an action under conspiracy theories. If we look at the bitter facts like the Corona epidemic or climate change, we hear incredible stories about it and this is the ability that requires conscious resignation. Today, humans have realized that although the world is divided into different countries, protecting the climate on the planet is a shared responsibility. Similarly, in dealing with disasters, if the same shared responsibility is realized, it can yield effective results. Conspiracy theories allow the human imagination to enjoy mental laziness. Man is essentially a seeker and generally does not want to seek or research the truth but finds it easier to be satisfied by believing anything. In fact, these are the comfort zones from which man does not want to go outside and does not want to try to understand the nuances of truth, so he pays more attention to the entertainment aspects of every story. The key role that human imagination plays in connecting one event (dots) to another event (dots) using odd bits of information creates a picture that our brains don't have to work hard to understand. Wants to do and is looking for ease, the solution of which is the result of artificial intelligence Chat GPT. Noam Chomsky said that ChatGPT is essentially high-tech theft and a way to prevent humans from learning. This comprehensive interpretation needs no further explanation because it is just as likely that plagiarism (high-tech plagiarism) is now possible in the preparation of any article. Chat GPT is a high-tech product, which helps us avoid the dubious consequences of imagination. This technology is an extension of an incredible human trait, labeled the elimination of curiosity. Most of the human beings are concerned and threatened by the curiosity spread around them. It cannot be said for sure whether artificial intelligence will prove beneficial or even more confusing for the human being caught between curiosity and imagination, but it can be said for sure that chat GPT knows and unknowns. It can be created to search for truths, but it can also become a tool (weapon) through which it is easy to reach the truth. Will the computer in the near future be able to match the human imagination and the decision-making power of humans? Google, Mena and many other efforts involved in the race of artificial intelligence are the elevation of the evolutionary stages of human society, but there are still many challenges for humans in the form of incurable diseases and epidemics. Using high-tech equipment, not only high-tech weapons, but also high-tech medicines should be considered. There is not much difference between technology that makes human life easier and technology that makes humans useless. Look at how children and old people are used to using mobile phones and don't even think it is important to understand its conscious use or the ideas behind it. Animals also have brains, but they cannot build logic on logic and imagination on imagination like humans. Keep in mind that the first and foremost thing that dominates any creative work and separates it from another person is imagination. The higher this force is in a person. Man in his evolutionary journey has invented many machines that serve humanity and help him move forward, such as cars and airplanes. And can move, using an artificial intelligence based technology called Jet GPT would prove to be useful if humans surpass animals with the thought of improving society, but if it is used in the form of high-tech theft. If done, in fact, this evolutionary journey will be backwards rather than forwards, i.e. reverse development. Wisdom is not only the invention of a machine or a method, but also its wise use. The scientist Einstein said that "imagination is more important than knowledge." These historical words of Einstein The importance of has increased more in today's era. Chat GPT uses a vast store of knowledge and information and the one quality it is losing is the "human imagination".

 

مصنوعی ذہانت بمقابلہ انسانی تخیل

کمپیوٹر کو مصنوع ذہانت سے لیس کرنے کامیاب تجربے کے تعمیری و تخریبی استعمال کی حدود وقیود نہیں تاہم اصل مقابلہ مصنوعی ذہانت اور انسانی تخیل کا ہے۔ کرہ ارض پر انسان کے قیام کے دوران ہر دور کی ضرورت یہی تھی کہ انسان گردوپیش کے ماحول سے نمٹ سکے اور اسی کوشش میں مصنوعی ذہانت پر مبنی اسلوب متعارف کروائے گئے ہیں، جن میں چیٹ جی پی ٹی شامل ہے اور اسے اگر انقلابی تصور قرار دیا جائے تو غلط نہیںہوگا۔ انسان نے غار میں پناہ لینے سے سماج کی شکل اختیار کرنے تک کے سفر میں جو کچھ بھی نیا حاصل کیا ہے وہ اسی ارتقائی عمل کا نتیجہ ہے جس کی مصنوعات آج گھر گھر استعمال ہورہی ہیں لیکن "خیر محض" سے استعفادہ کس طرح کرنا ہے کہ اس سے انسانیت کی بھلائی ہو۔ درس و تدریس کا عمل آسان ہو اور ٹیکنالوجی فیصلہ سازی میں ان محسوسات کو بھی مدنظر رکھے جسے اس پوری کوشش کا حاصل قرار دیا جاسکتا ہے۔ انسان کی فطری کمزوری یہ ہے کہ یہ کسی فوری نتیجے تک پہنچنے میں سازشی اور منفی نظریات پر یقین رکھتا ہے۔ کسی معاملے میں منفی سوچ درحقیقت مختلف زاویئے سے سوچنے اور حالات کو دیکھنے کا انداز ہوتا ہے، جسکی وجہ سے کیا جانے والا فیصلہ یا اقدام زیادہ سودمند ثابت ہوتا ہے۔ انسان نے کمپیوٹر کو مصنوعی ذہانت سے تو لیس کردیا ہے لیکن وہ اسے انسانوں جیسا سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور سازشی نظریئے کے تحت کسی عمل کے تنقیدی جائزے سے لیس نہیں کرپائی ہے۔ کورورنا وباء  ہو یا موسمیاتی تبدیلی جیسے تلخ حقائق کو بھی دیکھا جائے تو اس کے بارے میں ناقابل یقین افسانے سننے کو ملتے ہیں اور یہی وہ صلاحیت ہے جس سے شعوری طور پر درست استعفادہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ آج انسانوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اگرچہ دنیا مختلف ممالک میں تقسیم ہے لیکن کرہ ارض پر آب و ہوا کا تحفظ مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اسی طرح آفات کا مقابلہ کرنے میں بھی اگر اسی مشترکہ ذمہ داری کا احساس کیا جائے تو اس سے کارآمد  نتائج حاصل ہوسکتے ہیں۔ سازشی نظریات انسانی تخیل کو ذہنی سستی سے لطف اندوز ہونے میں مدد دیتے ہیں۔ انسان بنیادی طور پر آراب طلب ہے اور وہ عموماً سچائی کی تلاش یا تحقیق نہیں کرنا چاہتا لیکن کسی بھی بات پر یقین کرکے اطمینان حاصل کرنے کو زیادہ آسان سمجھتا ہے۔ درحقیقت یہی فع کمفرٹ زون ہیں جس سے انسان باہر نہیں انا چاہتا اور سچائی کی باریکیوں کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرنا چاہتا ہے لہٰذا ہر کہانی کے تفریح پہلوؤں پر زیادہ توجہ دیتا ہے۔ معلومات کے مضحکہ خیز ٹکڑوں کا استعمال کرتے ہوئے کسی ایک واقعے (نکتے) سے دوسے واقعے (نکات) کو جوڑنے میں انسانی تخیل جو کلیدی کردار ادا کرتا ہے اس سے ایک ایسی تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے جسے سمجھنے کےلئے ہمارا دماغ زیادہ محنت نہیں کرنا چاہتا اور اسے آسانیوں کی تلاش رہتی ہے جس کا حل مصنوعی ذہانت کا نتیجہ چیٹ جی پی ٹی ہے۔ نوم چومسکی نے کہا تھا کہ چیٹ جی پی ٹی بنیادی طور پر ہائی ٹیک چوری ہے اور یہ انسانوں کو سیکھنے سے بچانے کا ایک طریقہ ہے۔ اس جامع تشریح کی مزید وضاحت کی ضرورت نہیں کیونکہ بالکل ایسا ہی ہے کہ اب کسی بھی مضمون کی تیاری میں نقل (ہائی ٹیک چوری)ممکن ہو گی ہے۔ چیٹ جی پی ٹی ہائی ٹیک پروڈکٹ ہے، جو ہمیں تخیل کے مشکوک نتائج سے بچنے میں مدد کرتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ایک ناقابل یقین انسانی صفت کی توسیع ہے، جس پر تجسس  کے خاتمے کا لیبل لگا ہوا ہے۔ انسانوں کی اکثریت کو اپنے گردوپیش میں پھیلے تجسس سے واسطہ اور خطرہ رہتا ہے۔ یہ بات یقین سے نہیں کہی جاسکتی ہے اس تجسس اور تخیل کے درمیان پھنسے ہوئے انسان کےلئے مصنوعی ذہانت فائدہ مند ثابت ہوتی ہے یا اسے مزید الجھنوں میں مبتلا کردیتے ہے لیکن یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کو معلوم و نامعلوم سچائیوں کی تلاش کےلئے تخلیق کیا جاسکتا ہے بلکہ یہ ایک ایسا آلہ (ہتھیار)بھی بن سکتا ہے جس کے ذریعے سچائی تک پہنچنا آسان ہو۔ کیا مستقبل قریب میں کمپیوٹر انسانی تخیل اور انسانوں میں موجود فیصلہ کرنے کی قوت تحقیقی صلاحیت کا مقابلہ کرسکے گا؟ گوگل، مینا اور دیگرمصنوعی ذہانت کی دوڑ میں شامل ایس بہت کوششیں انسانی معاشرے کے ارتقائی مراحل کی معراج ہیں تاہم انسانوں کےلئے آج بھی کئی چیلنچز لاعلاج بیماریوں اور وباؤں کی صورت میں موجود ہیں۔ ہائی ٹیک آلات کا استعمال کرتے ہوئے صرت ہائی ٹیک ہتھیار ہی نہیں بلکہ ہائی ٹیک ادویات بنانے پر بھی غور ہونا چاہیئے۔ انسانی زندگی کو آسان بنانے والی ٹیکنالوجی اور انسانوں کو بیکار بنانے والی ٹیکنالوجی کے درمیان زیادہ فرق نہیں ہے۔ گردوپیش میں دیکھئے کہ کس طرح بچوں اور بوڑھوں کو موبائل کے استعمال کی عادت پڑی ہوئی ہے اور اس کے شعوری استعمال یا اس کے پیچھے کارفرما نظریات کو سمجھنا زیادہ ضروری  بھی نہیں سمجھتے۔ دماغ تو جانوروں کے پاس بھی ہوتا ہے لیکن وہ انسانوں کی طرح دلیل پر دلیل اور تخیل پر تخیل قائم نہیں کرسکتے۔ ذہن نشین رہے کہ سب سے مقدم اور ضروری چیز جو کسی بھی تخلیقی کام پر حاوی ہوتی ہے اور اس کام کو کسی دوسرے شخص سے الگ کرتی ہے وہ قوتِ مخیلہ یا تخیل (ایمی جینشن) ہے۔ کسی شخص میں یہ قوت جس قدر اعلیٰ درجہ کی ہوگی۔ انسان نے اپنے ارتقائی سفر میں بہت سی مشینیں ایجاد کی ہیں جو انسانیت کی خدمت پر مامور ہیں اور اسے  آگے بڑھنے میں مدد دے رہی ہیں جیسا کہ گاڑیاں اور ہوائی جہاز، آج انسان کسی بھی دوسری اہم زمینی مخلوق سے زیادہ اور بلاتھکان تیزی سے سفر و حرکت کرسکتا ہے، جیٹ جی پی ٹی نامی مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اگر تو انسان معاشرے کو بہتر بنانے کی سوچ کے ساتھ جانوروں سے آگے نکل جائیں تو یہ کارآمد ثابت ہوگی لیکن اگر اس کا استعمال ہائی ٹیک چوری کی صورت کیا گیا تو درحقیقت یہ ارتقائی سفر آگے کی بجائے پیچھے کی طرف یعنی ترقی معکوس جیسا ہوگ۔ دانشمندی صرف مشین یا کسی طریقے کی ایجاد نہیں بلکہ اس کا دانشمندانہ استعمال بھی ہے۔ سائنسدان آئن سٹائن نے کہا تھا کہ "تخیل علم سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔"آئن سٹائن کےان تاریخی الفاظ کی اہمیت آج کے دور میں زیادہ بڑھ گئی ہے ۔ چیٹ جی پی ٹی علم اور معلومات کے بڑے ذخیرے کا استعمال کرتا ہے اور اس کی وجہ سے جس ایک خوبی کا نقصان ہورہا ہے وہ "انسانی تخیل" ہے۔

THE IMPACT OF AI ON THE FUTURE OF HUMAN LIFE

Artificial Intelligence (AI) is rapidly transforming the world, and its influence will continue to grow in the coming decades. From healthca...