مصنوعی ذہانت بمقابلہ انسانی تخیل
کمپیوٹر کو مصنوع ذہانت سے لیس کرنے کامیاب تجربے کے تعمیری
و تخریبی استعمال کی حدود وقیود نہیں تاہم اصل مقابلہ مصنوعی ذہانت اور انسانی
تخیل کا ہے۔ کرہ ارض پر انسان کے قیام کے دوران ہر دور کی ضرورت یہی تھی کہ انسان
گردوپیش کے ماحول سے نمٹ سکے اور اسی کوشش میں مصنوعی ذہانت پر مبنی اسلوب متعارف
کروائے گئے ہیں، جن میں چیٹ جی پی ٹی شامل ہے اور اسے اگر انقلابی تصور قرار دیا
جائے تو غلط نہیںہوگا۔ انسان نے غار میں پناہ لینے سے سماج کی شکل اختیار کرنے تک
کے سفر میں جو کچھ بھی نیا حاصل کیا ہے وہ اسی ارتقائی عمل کا نتیجہ ہے جس کی
مصنوعات آج گھر گھر استعمال ہورہی ہیں لیکن "خیر محض" سے استعفادہ کس
طرح کرنا ہے کہ اس سے انسانیت کی بھلائی ہو۔ درس و تدریس کا عمل آسان ہو اور
ٹیکنالوجی فیصلہ سازی میں ان محسوسات کو بھی مدنظر رکھے جسے اس پوری کوشش کا حاصل
قرار دیا جاسکتا ہے۔ انسان کی فطری کمزوری یہ ہے کہ یہ کسی فوری نتیجے تک پہنچنے
میں سازشی اور منفی نظریات پر یقین رکھتا ہے۔ کسی معاملے میں منفی سوچ درحقیقت
مختلف زاویئے سے سوچنے اور حالات کو دیکھنے کا انداز ہوتا ہے، جسکی وجہ سے کیا
جانے والا فیصلہ یا اقدام زیادہ سودمند ثابت ہوتا ہے۔ انسان نے کمپیوٹر کو مصنوعی
ذہانت سے تو لیس کردیا ہے لیکن وہ اسے انسانوں جیسا سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور
سازشی نظریئے کے تحت کسی عمل کے تنقیدی جائزے سے لیس نہیں کرپائی ہے۔ کورورنا
وباء ہو یا موسمیاتی تبدیلی جیسے تلخ
حقائق کو بھی دیکھا جائے تو اس کے بارے میں ناقابل یقین افسانے سننے کو ملتے ہیں
اور یہی وہ صلاحیت ہے جس سے شعوری طور پر درست استعفادہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ آج
انسانوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اگرچہ دنیا مختلف ممالک میں تقسیم ہے لیکن کرہ ارض
پر آب و ہوا کا تحفظ مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اسی طرح آفات کا مقابلہ کرنے میں بھی اگر
اسی مشترکہ ذمہ داری کا احساس کیا جائے تو اس سے کارآمد نتائج حاصل ہوسکتے ہیں۔ سازشی نظریات انسانی
تخیل کو ذہنی سستی سے لطف اندوز ہونے میں مدد دیتے ہیں۔ انسان بنیادی طور پر آراب
طلب ہے اور وہ عموماً سچائی کی تلاش یا تحقیق نہیں کرنا چاہتا لیکن کسی بھی بات پر
یقین کرکے اطمینان حاصل کرنے کو زیادہ آسان سمجھتا ہے۔ درحقیقت یہی فع کمفرٹ زون
ہیں جس سے انسان باہر نہیں انا چاہتا اور سچائی کی باریکیوں کو سمجھنے کی کوشش
نہیں کرنا چاہتا ہے لہٰذا ہر کہانی کے تفریح پہلوؤں پر زیادہ توجہ دیتا ہے۔
معلومات کے مضحکہ خیز ٹکڑوں کا استعمال کرتے ہوئے کسی ایک واقعے (نکتے) سے دوسے
واقعے (نکات) کو جوڑنے میں انسانی تخیل جو کلیدی کردار ادا کرتا ہے اس سے ایک ایسی
تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے جسے سمجھنے کےلئے ہمارا دماغ زیادہ محنت نہیں کرنا
چاہتا اور اسے آسانیوں کی تلاش رہتی ہے جس کا حل مصنوعی ذہانت کا نتیجہ چیٹ جی پی
ٹی ہے۔ نوم چومسکی نے کہا تھا کہ چیٹ جی پی ٹی بنیادی طور پر ہائی ٹیک چوری ہے اور
یہ انسانوں کو سیکھنے سے بچانے کا ایک طریقہ ہے۔ اس جامع تشریح کی مزید وضاحت کی
ضرورت نہیں کیونکہ بالکل ایسا ہی ہے کہ اب کسی بھی مضمون کی تیاری میں نقل (ہائی
ٹیک چوری)ممکن ہو گی ہے۔ چیٹ جی پی ٹی ہائی ٹیک پروڈکٹ ہے، جو ہمیں تخیل کے مشکوک
نتائج سے بچنے میں مدد کرتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ایک ناقابل یقین انسانی صفت کی توسیع
ہے، جس پر تجسس کے خاتمے کا لیبل لگا ہوا
ہے۔ انسانوں کی اکثریت کو اپنے گردوپیش میں پھیلے تجسس سے واسطہ اور خطرہ رہتا ہے۔
یہ بات یقین سے نہیں کہی جاسکتی ہے اس تجسس اور تخیل کے درمیان پھنسے ہوئے انسان
کےلئے مصنوعی ذہانت فائدہ مند ثابت ہوتی ہے یا اسے مزید الجھنوں میں مبتلا کردیتے ہے
لیکن یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کو معلوم و نامعلوم سچائیوں کی
تلاش کےلئے تخلیق کیا جاسکتا ہے بلکہ یہ ایک ایسا آلہ (ہتھیار)بھی بن سکتا ہے جس
کے ذریعے سچائی تک پہنچنا آسان ہو۔ کیا مستقبل قریب میں کمپیوٹر انسانی تخیل اور
انسانوں میں موجود فیصلہ کرنے کی قوت تحقیقی صلاحیت کا مقابلہ کرسکے گا؟ گوگل،
مینا اور دیگرمصنوعی ذہانت کی دوڑ میں شامل ایس بہت کوششیں انسانی معاشرے کے
ارتقائی مراحل کی معراج ہیں تاہم انسانوں کےلئے آج بھی کئی چیلنچز لاعلاج بیماریوں
اور وباؤں کی صورت میں موجود ہیں۔ ہائی ٹیک آلات کا استعمال کرتے ہوئے صرت ہائی
ٹیک ہتھیار ہی نہیں بلکہ ہائی ٹیک ادویات بنانے پر بھی غور ہونا چاہیئے۔ انسانی
زندگی کو آسان بنانے والی ٹیکنالوجی اور انسانوں کو بیکار بنانے والی ٹیکنالوجی کے
درمیان زیادہ فرق نہیں ہے۔ گردوپیش میں دیکھئے کہ کس طرح بچوں اور بوڑھوں کو
موبائل کے استعمال کی عادت پڑی ہوئی ہے اور اس کے شعوری استعمال یا اس کے پیچھے
کارفرما نظریات کو سمجھنا زیادہ ضروری بھی
نہیں سمجھتے۔ دماغ تو جانوروں کے پاس بھی ہوتا ہے لیکن وہ انسانوں کی طرح دلیل پر
دلیل اور تخیل پر تخیل قائم نہیں کرسکتے۔ ذہن نشین رہے کہ سب سے مقدم اور ضروری
چیز جو کسی بھی تخلیقی کام پر حاوی ہوتی ہے اور اس کام کو کسی دوسرے شخص سے الگ
کرتی ہے وہ قوتِ مخیلہ یا تخیل (ایمی جینشن) ہے۔ کسی شخص میں یہ قوت جس قدر اعلیٰ
درجہ کی ہوگی۔ انسان نے اپنے ارتقائی سفر میں بہت سی مشینیں ایجاد کی ہیں جو
انسانیت کی خدمت پر مامور ہیں اور اسے آگے
بڑھنے میں مدد دے رہی ہیں جیسا کہ گاڑیاں اور ہوائی جہاز، آج انسان کسی بھی دوسری
اہم زمینی مخلوق سے زیادہ اور بلاتھکان تیزی سے سفر و حرکت کرسکتا ہے، جیٹ جی پی
ٹی نامی مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اگر تو انسان معاشرے
کو بہتر بنانے کی سوچ کے ساتھ جانوروں سے آگے نکل جائیں تو یہ کارآمد ثابت ہوگی
لیکن اگر اس کا استعمال ہائی ٹیک چوری کی صورت کیا گیا تو درحقیقت یہ ارتقائی سفر
آگے کی بجائے پیچھے کی طرف یعنی ترقی معکوس جیسا ہوگ۔ دانشمندی صرف مشین یا کسی
طریقے کی ایجاد نہیں بلکہ اس کا دانشمندانہ استعمال بھی ہے۔ سائنسدان آئن سٹائن نے
کہا تھا کہ "تخیل علم سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔"آئن سٹائن کےان تاریخی
الفاظ کی اہمیت آج کے دور میں زیادہ بڑھ گئی ہے ۔ چیٹ جی پی ٹی علم اور معلومات کے
بڑے ذخیرے کا استعمال کرتا ہے اور اس کی وجہ سے جس ایک خوبی کا نقصان ہورہا ہے وہ
"انسانی تخیل" ہے۔