گھر بیٹے (آن لائن) کام کاج

دنیا کورونا وائرس سے دسمبر 2019 میں متاثر ہوئی اور اب تک سماجی اور معاشی طور پر سمبنھالنے کی کوششیں ہورہی ہیں اور ہر ملک و معیشت اپنے طور پر جاری وساری رہنے کےلئے تک و دو میں مختلف قسم کے تجربات سے گزررہی ہے۔ اس صورتحال میں ان سبھی ممالک کی معیشتوں کو کامیابی ہوئی ہے جنہوں نے گھر بیٹھ کرآن لائن کام کاج کے تجربات کیے ہیں۔ ایس ایک مثال ہانگ کانگ کی ہے جہاں کا "چیونگ کانگ سنٹر" وہاں کی بہترین عمارتوں میں سے ایک ہے 66 منزلہ یہ عمارت  ہانگ کانگ کی تیسری بلند عمارت ہے جس میں دیگر دفاتر کے ساتھ ساتھ چیونگ کانگ ہولڈنگز اور کچھ دیگر ملٹی نیشنل اداروں کے دفاتر بھی موجود ہیں تاہم کچھ عرصے سے یہ اور کچھ اور بلند بالا عمارتیں  جس میں سے کچھ چوتھائی خالی پڑی ہوئی ہیں اور شہر کےکئی مہنگے کمرشل مقامات خالی پڑے ہوئے ہیں۔ ہانگ کانگ پر اس وقت کئی عوامل اثرانداز ہورہے ہیں جس کی وجہ سے ان کمپنیوں کو مشکلات پیش آہی ہیں جو اس شہر کو ملک میں اپنی سرگرمیوں  کے مرکزکےطور پر استعمال کرتی تھیں۔ دنیا کے دیگر حصوں جیسے کہ امریکا میں کورونا کو ویکسین کے زریعے کرونا کو قابو کرلیا گیالیکن اس کے باوجود وہاں پر صورتحال کوئی مثالی نہیں ہے۔ اندازہ یہ لگایا گیا تھا کہ کورونا ختم ہونے کے بعد لوگ دفاتر میں کام کرنے کےلئے بڑی تعداد میں واپس آئے گے تاہم یہ اندازے غلط ثابت ہوئے۔ امریکا کے معروف شہر نیویارک کے مین ہٹن نامی علاقے سے متعلق حالیہ اعدادوشمار کے مطابق فضائی سفر کرنے والےاور کھیلوں کے مقابلے میں شرکت کرنے والوں کی تعدادکورونا سے پہلے والی تعداد کے برابر ہوگئی ہے لیکن دفاتر ابھی بھی بہت حد تک خالی ہیں"مین ہٹن" میں دفاتر میں کام کرنے والوں کی کل تعداد میں سے اب صرف 40 سے 50 فیصد تک لوگ دفاتر میں کام کرنے کےلئے آتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں کی ٹرانسپورٹ میں اب کنجائش سے کم لوگ سفر کرتے ہیں، جبکہ یہ سب وے نظام شہر کی آمدن کا ایک زریعہ ہے، یہ صورتحال اس حد تک خراب ہے کہ نیویارک کے میئر ایرک ایڈمز شہر میں تمام خالی دفاتر کو مستقل طور پر سستی رہائش گاہوں میں تبدیل کرنا سوچ رہے ہیں، دوسری طرف فیس بک اور ایمازون جیسی بڑی ٹیکنالوجی والی کمپنیوں نے کورونا کے آغاز میں جو دفاتر خریدنا چاہتےتھے انہوں نے اپنی حکمت عملی سے رجوع کرلیا ہے اور اب ایسی جگہوں کو فروخت کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ اسی طرح سے امریکا کے سان فرانسیسکو شہر میں کئی بڑی کمپنیوں کے مرکزی دفاتر موجود ہیں اور وہاں تو صورتحال اس سے بھی زیادہ خراب ہے۔ نیویارک ٹائمز کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ملازمین کو نوکریوں سے نکالنے اور گھر سے کام کی اجازت کی وجہ سے شہر کا ڈاؤن ٹاؤن سنسان ہوگیاہے۔ ملازمین کے نہ ہونے کا مطلب ہے شہری خدمات استعمال کرنے والے بھی کم ہوگے ہیں یعنی سرکاری و نجی اداروں کی آمدنی میں کمی آئی ہے۔ ہانگ کانگ کے چیونگ کانگ سینٹر کی طرح نئی تعمیر ہونے والی سیلز فورس ٹاور بھی جزوی طور پر خالی ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ اس کمپنی میں بھی لوگ گھروں سے کم کرتے ہیں۔ دفاتر کے استعمال کے بدلتے رجحاناتے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ وئی بڑی تبدیلی آنے کو ہے اگرچہ مقامی اداروں میں کام کرنے والے پاکستانی شاوید فور طور پر کسی تبدیلی کا مشاہدہ نہ کریں اور انہیں فوری طور پر گھر سے کام کرنے کی سہولت میسر نہ ہوسکے لیکن گھرسے کام کرنیکی صورت میں اخراجات میں جو بچت ہوتی ہے اسکی وجہ سے ممکن ہے کہ نئی کمپنیوں کے کام کرنے کے طریقےکار پر یہ انداز ہوگئی۔ پاکستان میں انتظامی عہدوں کی درجہ بندی کا ماڈل شاید دنیا کے دیگر خطوں کی نسبت دیر تک موجود رہے لیکن کم لاگت کے فوائد اس ذہنیت کو ختم کردیں گے جن کے نتیجے میں ایک منتظم ملازمین کو دفتر میں اپنے سامنے دیکھنا چاہتا ہے، ٹیلنٹ کی عالمی مارکیٹ میں ایک اور تبدیلی کے امکانات بھی ہیں، حالیہ ماہ میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر افراد کو نوکری سے نکالنے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ وہ "ورک فرام ہوم" کے ماڈل کو تسلیم کررہی ہیں۔ اس طرح وہ کمپنیاں بیرون ملک سے بھی افراد کو کانٹینٹ ماڈریشن اور اس اس قسم کے دیگر کاموں کےلئے ملازمتوں پر رکھ سکتی ہیں۔ بیرون ملک جانے والوں کو نہ صرف خود ہجرت کرنی پڑتی ہے بلکہ اپنے گھروالوں کو بھی اس عمل سے گزارنا پڑتا ہے ، ورک ویزے کی حدود اور دیگرع مشکلات سے نمٹنا پڑتا ہے مگر گھر سے کام کرنے کی صورت میں نکل مکانی کا رجحان بہت کم ہوجائے گا، ڈاکٹروں کو تو کام کی جگہ پر موجود ہونا پڑتا ہے لیکن ان کے علاوہ شاید مالیاتی شعبے، انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے ملک میں رہتے ہوئے بھی بیرون ملک کام کرسکتے ہیں، مغربی ممالک میں امیگریشن کی حمایت ختم ہونے کے ساتھ غیرملکی شہریوں کی خدمات کو کم خرچ پر استعمال کرنے کی یہ نئی شکل ہر ایک کےلئے بہترین حل ثابت ہوسکتی ہے۔ وہ پاکستانی جو اس وقت اپنے کیریئر کا انتخاب کررہے ہیں اور مستقبل کے حوالےسے فیصلے لینے والے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ بدلتے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر کسی غیر ملک میں ہجرت کا مقصد ہے تو پھر طب کے شعبے یا اس جیسا کوئی پیشہ اختیار کیا جائے جس میں آپ کو وہاں موجود ہونا ہو، اگر کوئی گھر سے کام کرنے کے مواقعوں سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے جو دیگر شعبوں میں ابھریں گے تو اسے یہ جاننا ضروری ہے کہ سلیک اور اسی طرح کے دیگر آن لائن ورک سے متعلق سے آسانیوں کا استعمال کرتے ہوئے وہ اپنی صلاحیت کے مطابق عالمی ٹیموں کا حصہ بن سکتے ہیں، وقت ہے کہ حکومتی سطح پر نوجوانوں کی رہنمائی کی جائے اور انہیں آن لائن جاب مارکیٹ کے بارے میں بتایا جائےجو مستقل میں کام کاج کا اسلوب ہوگا۔

SOCIAL MEDIA: THE RACE FOR ALTERNATIVES

 

The aftermath of the sale of Twitter, the most popular social media platform, hit new heights after hundreds of employees refused to continue working for Elon Musk, who bought Twitter. The position of a large number of Twitter employees was that they were standing for freedom of expression in the world and they did not like working for a billionaire. At the same time, these employees have refused to obey the orders of the possibility of "Elon Musk". This website and company was bought on October 27, 2022 by an entrepreneur named Elon Musk for $44 billion. Twitter's one billion users worldwide exchange 340 million messages per day. The special thing is that the heads of state are also among those who use Twitter and the cleaning institutions also use it and call it an important means of freedom of expression. If the dispute arising from the sale and purchase of Twitter is not resolved soon, it could affect the services and performance of Twitter, which has already received complaints of slowness in several countries. After Elon Musk bought Twitter, he announced the temporary closure of all offices for staff to cut costs. After which Twitter users have deleted their accounts and created their accounts on other social platforms similar to Twitter.

Keep in mind that the number of Twitter employees was seven and a half thousand, which has been reduced to 3750. Taking advantage of this situation, several microblogging platforms have emerged, including Twitter's Indian rival, Koo. Countries and organizations that are looking for their own fortunes due to the rise and fall of Twitter, Pakistan's name is nowhere to be found in this race. Five popular micro-blogging or blogging websites in Pakistan include Blogger.Com, Medium.Com, Wordpress.Org, and Olette, and none of them are owned by Pakistan. It is time to fill the gap in social media or especially blogging or micro-blogging areas that not only Pakistan but also Muslim countries can bring out the best alternative to Twitter and can perform prominent functions like Twitter 2.0, which Coming soon.

 

سوشل میڈیا: متبادل کی دوڑ

سماجی رابطہ کاری کا مقبول ترین وسیلہ ٹوئیٹر (twitter) کی فروخت کے بعد سے پیدا ہونے والا بحرین اس وقت نئی بلندیوں پر پہنچ گیا جب سینکڑوں ملازمین نے ٹوئٹر خریدنے والے "ایلون مسک" کے کام جاریک رکھنے سے انکار کردیا۔ ٹوئٹر ملازمین کی ایک بڑی تعداد کا مؤقف کہ وہ دنیا میں آزادی اظہار کےلئے کقام کررہے تھے اور انہیں کسی ارب پتی شخص کے لئے کام کرنا پسند نہیں۔ ساتھ ہی ان ملازمین نے "ایلون مسک" کے امکان کے احکام ماننے سے انکار کردیا ہے۔ یہ ویب سائٹ اور ادارہ 27 اکتوبر 2022 کے روز ایلون مسک نامی کاروباری شخصیت نے 44 ارب ڈالر کے عوض خریدا۔ ٹوئٹر کے دنیا بھر میں ایک ارب صارفین یومیہ 34 کروڑ پیغامات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ ٹوئٹر کا استعمال کرنے والوں میں سربراہان مملکت بھی شامل ہیں اور صافتی ادارے بھی استعمال کرتے ہوئے اسے آزادئ اظہار کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ اگرٹوئٹر کی فروخت اور خریداری سے پیدا ہونے والا تنازعہ جلد حل نہ کیا گیا تو اس سے ٹوئٹر کی خدمات اور کارکردگی متاثر ہوسکتی ہے جس کے بارے میں پہلے کئی ممالک میں سست ہونے کی شکایات موصول ہورہی ہیں۔ ایلون مسک نے ٹوئٹر خریدنے کے بعد اس کے اخراجات کم کرنے کےلئے جملہ دفاتر عملے کےلئے عارضی طور پر بند کرنے کا اعلاان کیا۔ جس کے بعد جئی ٹوئٹر صارفین نے اپنے کھاتے (اکاؤنٹس ) ختم کرکے ٹوئٹر سے ملتے جلتے دیگر سوشل پلیٹ فارمز پر اپنے اکاؤنٹس بنالئے ہیں۔

ذہن نشین رہے کہ ٹوئٹر ملازمین کی تعداد ساڑھے سات ہزار تھی جنہیں کم کرکے 3750 کردیاگیا ہے۔ اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئی کئی مائیکروبلاگنگ پلیٹ فارمز سامنے آئے ہیں جن میں ٹوئٹر کا بھارتی حریف "کوو (Koo)" بھی شامل ہے۔ ٹوئٹر کے عروج و زوال سے جو ممالک اور ادارے اپنی اپنی خوش قسمتی تلاش کررہے ہیں اس دوڑ میں پاکستان کا نام ونشان دور دور تک نہیں ملتا۔ پاکستان میں مائیکروبلاگنگ یا بلاگنگ کے پانچ مشہور ویب سائٹس میں بلاگر ڈاٹ کام، میڈیم ڈاٹ کام، ورڈ پریس ڈاٹ او آر جی، اور اولیٹ  شامل ہیں اور ان میں کسی یک کے حقوق بھی پاکستان کے پاس نہیں ۔ وقت ہے کہ سوشل میڈیا یا بالخصوص  بلاگنگ یا مائیکرو بلاگنگ کے شعبوں میں موجود خلا کو پر کیا جائے جو صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ مسلم ممالک ٹوئٹر کا بہترین متبادل سامنے لانے میں کامیاب ہوسکیں اور ٹوئٹر 2۔0 جیسا کارہائے نمایاں سرانجام دے سکیں، جو عنقریب متعارف ہونے والا ہے۔

TELECOM SECTOR: A NATIONAL ASSET

Pakistan has historically been a highly competitive telecom market with cellular mobile operators enabling "digital inclusion" at the national level with some of the lowest tariffs in the world. Over the last five years, average monthly data usage by users was 2G. B has increased to 7 GB. Mobile phone users in Pakistan spend an average of "one dollar" per month. The US has an average of $46, Canada $41 and Bahrain $39. If Pakistani mobile users are compared globally, Pakistan is ranked 267th out of 269 telecom companies operating in the world and where consumer behavior is cautious and they are not giving significant profits to cellular companies. So the telecom sectors there do not invest in providing growth and innovation because they are not getting substantial return on such investment. Mobile phone service providers in Pakistan are going through tough times like the country, which can be seen from their periodic press releases, lack of interest or participation in social work and not launching expansion projects. . At least 2 mobile companies in Pakistan have experimented with 5G but it is yet to be launched. Last month (October 2022), it was announced by the federal government that 5G service will be launched in June 2023. But the chances of this also seem very low as there is not enough interest and investment from the mobile phone companies. Even if the 5G service is launched, this facility will be available only to those living in certain parts of Karachi, Lahore and Islamabad. It should be noted that earlier the federal government had given a deadline of December 2022 for the launch of 5G technology, but this deadline has been revised to March 2023 and then June 2023. The main driver of the economic difficulties that mobile phone (cellular) companies are facing is not only that the per mobile user is spending less than the global average, but recently petroleum products, electricity and gas prices, interest rate increases and Pakistani Due to the devaluation of the rupee, the ongoing (operating) expenses of these companies have increased due to which the telecom industry is facing a kind of existential crisis. This can be easily understood from the statistics that the 2 cellular mobile operators of Pakistan have reported a combined revenue of around fifty billion rupees during the first half (six months) of the year 2022 and this is not the first time that mobile companies have made billions of rupees annually. For the fourth consecutive quarter, the income of Mobilink (also known as Jazz) has suffered negative growth for foreign investors in terms of US dollars. The ongoing (operating) expenses of mobile companies have increased by an average of (almost) twenty percent compared to last year, while the income of this industry has not increased significantly. If the mobile phone companies increase the price of their services by 10% to cover the 20% cost increase, it is feared that a large number of mobile users will further reduce their spending (mobile phone usage) and that is the point. It has been repeatedly pointed out that the government should find a middle way (solution) through tax exemptions imposed on cellular companies so that the telecom sector can not only maintain the quality of existing services but also 5G and mobile. Be able to provide other services over the phone including fulfilling your social responsibility. The main issue is that telecom companies are charged a separate fee for introducing new services (like 5G) and how this is possible in a situation where most of the users have limited use of mobile phones. And the government also expects more revenue and fees from the telecom sector, so where will the foreign investment in this sector come from and why should the investor who wants more profit turn to Pakistan. For example, during the year 2004-2005, three mobile phone operators paid more than 29 crores (291 million) dollars individually for telecom licenses and when in 2019 they applied to the government agency for renewing the permits (licenses). Referring to the increase in renewal fees by 55%, $450 million (450) million was collected per operator and if this increase in renewal fees is seen in terms of depreciation of the rupee, it is a 360% increase. Similarly, fifty percent of the fixed fee of 486 million dollars for license renewal was paid in advance while the remaining amount was paid in five annual installments, but due to the limited sale and availability of dollars, mobile phone companies faced an uncertain situation. On which concern and displeasure have been expressed on various occasions and such statements are part of the record. It should be noted that mobile phone operators have invested about three and a half billion dollars in network expansion and upgrading during the last five years and this sector generates about 96 billion annually in terms of income tax, customs duty, withholding tax and other revenues. Paying Rs. There are no signs of economic stability in the current economic (macroeconomic) situation of the country and if this situation continues, the introduction of 5G service may not be possible even in the year 2023 and the telecom industry will limit its services instead of development and innovation. Limiting their standard and modern facilities only to big cities and business centers.

 

ابلاغ عامہ کا نیا روپ

انفارمیشن ٹیکنالوجی نے کیا آنا تھا کہ ابلاغ عامہ کا پورا نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا۔ آجکل ہر لمحے قارئین اور ناظرین کو نت نئی خبریں پڑھنے اور دیکھنے کو ٹیلیویژن اور موبائل فون سیٹوں پر سوشل میڈیا کے ذریعے مل رہی ہیں۔ کسی زمانے میں سابقہ سوویت یونین سے دو معروف روزنامے چھپتے تھے ایک کا نام تھا پراودا اور دوسرے کا نام تھا ازوزستیا، پراودا کا روسی زبان میں مطلب ہے "سچ"  اور ازوزستیا کا مطلب ہیں "خبر"، پراودا کمیونسٹ پارٹی کا ترجمان تھاتو ازوزستیا روس کی حکومت کا ترجمان تھا۔ ان دنوں مغربی دنیا میں ایک لطیفہ مشہور تھا کہ اگر پراودا پڑھو تو اس میں پرازوزستیا نہیں ہوتااور اگر ازوزستیا پڑھو تو اس میں پراودا نہیں ہوتا۔ بالفاظ دیگر اگر پراودا پڑھو تو اس میں کوئی خبر نہیں ملتی اور اگر ازوزستیا پڑھو تو اس میں کوئی سچ دکھائی نہیں دیتا۔ یہ وہ وقت تھا جب سوشل میڈیا نہیں تھا اور کوئی بھی خبر لگی لپٹی کے ساتھ ہی سامنے آتی تھی اب تو خبر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب سے حالات یکسر بدل چکے ہیں۔ کسی واقعے یا خبر کو چھپانا ممکن حد تک مشکل ہو گیا ہے تاہم ساتھ ایک اور مسئلہ بھی درپیش ہے کہ سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ خبروں اور تبصروں کی بھرمار ہے جس کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا ہے کہ کونسی بات سچ ہے اور کونسی بات جھوٹی ہے، اسلئے ضروری ہے کہ سوشل میڈیا پر معلومات کو منظم اور مصدقہ انداز میں سامنے لانے کا کوئی انتظام ہوجائے۔ اب آتے ہیں چند دیگر اہم امور کی جانب، امریکہ کا تازہ ترین فرمان یہ ہے جس میں وہ فرماتا ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک روس سے تیل خرید سکتا ہے۔ بادی النظر میں تو یہ امریکہ کا بہت بڑا یو ٹرن ہے پر اس پر فوراََ یقین کرنے کی بجائے اس کے ہر پہلو پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا چاہیئے اور غور کرنے کی ضرورت بھی ہے کیونکہ امریکہ کہتا کچھ ہے اور کرتا کچھ ہے کیونکہ اس کے قول و فعل میں ہمیشہ سے یکسانیت نہیں رہی ہے۔ اس کے ہر فیصلے کے پیچھے کوئی نہ کوئی راز ہوتا ہے کیا کل تک وہ یوکرائن کی ہلہ شیری نہیں کررہا تھا اور آج اسے وہ یہ مشورہ دے رہا ہے کہ وہ روس سے جنگ کی بجائے مذاکرات کرے۔ اس کا تو واضح مطلب یہ ہے کہ امریکہ نے یوکرین کے ساتھ ہاتھ کردیا ہے اور پہلے اس روس کے ساتھ لڑایا اور روس پر تجارتی پابندیا لگا کر یوکرین کو باور کرایا کہ امریکہ اس کے ساتھ کھڑا ہے۔ تاہم اب لگتا ہے کہ اس روس کے مقابلے میں تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس میں عبرت کا نشان ہے ان تمام ممالک کےلئے جو امریکہ کی پالیسیوں کی اندھادھند پیروری و حمایت کرتے ہیں اور اپنے ساتھ ایک طرح سے دھوکہ کرتے ہیں۔ کیونکہ امریکہ کسی کا دوست نہیں وہ محض اپنے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ چاہے اس کےلئے اسے کتنے ہی معاہدے توڑنے پڑیں۔ اس طرح ایک اور حقیقت بھی کھل کر سامنے آنے لگی ہے کہ روس اور چین کی دوسٹی نے امریکہ کو مشکل میں ڈال دیا ہے اور جب تک یہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں امریکہ کو لینے کے دینے پڑیں گے۔ اس لئے تو اس کی کوشش ہے کہ کسی بھی طرح روس اور چین میں غلط فہمیاں پیدا کی جائے۔

A NEW FORM OF MASS COMMUNICATION

 

What happened to information technology was that the entire system of mass communication was left in disarray. Nowadays, every moment readers and viewers are getting to read and watch the latest news on television and mobile phone sets through social media. At one time there were two well-known newspapers from the former Soviet Union, one called Pravda and the other called Azozestya, Pravda meaning "truth" in Russian and Azozestya meaning "news", said Pravda Communist Party spokesman Thato Azozestia. He was the spokesman of the Russian government. In those days, a joke was popular in the western world that if you recite Pravda, there is no Prazozastya in it, and if you read Azozzastia, there is no Pravda in it. In other words, if you read Pravda, you don't find any news in it, and if you read Azuzastya, you don't see any truth in it. It was a time when there was no social media and any news came out with a cover, now the situation has changed completely with the revolution of information technology. Hiding an incident or news has become as difficult as possible but there is also another problem that there is a flood of unverified news and comments on social media which makes it difficult to decide what is true and what is not. It is false, so it is important that there is an arrangement to bring out the information on social media in a systematic and verified manner. Now coming to some other important issues, the latest statement by America is that any country including Pakistan can buy oil from Russia. In hindsight, this is a big U-turn of America, but instead of believing in it immediately, every aspect of it should be seriously considered and there is a need to consider because America says something and does something because of its There has not always been uniformity in words and deeds. There is some secret behind his every decision. Until yesterday, he was not abusing Ukraine and today he is advising him to negotiate with Russia instead of war. This clearly means that America has joined hands with Ukraine and first fought with Russia and imposed trade sanctions on Russia to convince Ukraine that America stands with it. However, Russia now seems to have been left alone in comparison. It is a sign of lesson for all those countries who blindly follow and support the policies of America and cheat themselves in a way. Because America is no one's friend, it only protects its own interests. No matter how many contracts he has to break for this. In this way, another fact has also come to light that the friendship between Russia and China has put America in trouble and as long as these two countries are connected with each other, America will have to give in. That is why he is trying to create misunderstandings between Russia and China in any way.

مال ویئر

پچھلے مضمون میں ہم نے سروس حملے سے انکار کا جائزہ لیا۔ یہ بہت عام حملہ ہے اور ایسا حملہ جو آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔ اس مضمون میں آپ حملوں کی کئی دوسری اقسام کے بارے میں جان کر حفاظتی خطرات کا امتحان جاری رکھیں گے۔ سب سے پہلے، آپ وائرس کے پھیلاؤ کے بارے میں جانیں گے۔ ہماری بحث اس اہم معلومات پر مرکوز ہوگی کہ وائرس کے حملے کیسے اور کیوں کام کرتے ہیں، بشمول ٹروجن ہارسز کے ذریعے ان کی تعیناتی۔ یہ مضمون "خود اپنا وائرس کیسے بنائیں" ٹیوٹوریل نہیں ہے، بلکہ ان حملوں کے زیر اثر تصورات کا تعارف اور کچھ مخصوص کیس اسٹڈیز کا امتحان ہے۔

 یہ مضمون بفر اوور فلو حملوں، اسپائی ویئر اور میلویئر کی کئی دوسری شکلوں کو بھی دریافت کرے گا۔ ان میں سے ہر ایک حملے کے لیے ایک منفرد نقطہ نظر لاتا ہے اور ہر ایک کو نظام کا دفاع کرتے وقت غور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس طرح کے حملوں کے خلاف دفاع کرنے کی آپ کی صلاحیت کو ان کے کام کرنے کے بارے میں آپ کے علم کو خرچ کرنے سے بڑھایا جائے گا۔

وائرسز

 تعریف کے مطابق، کمپیوٹر وائرس ایک خود ساختہ پروگرام ہے۔ عام طور پر، وائرس کے کچھ اور ناخوشگوار کام بھی ہوتے ہیں، لیکن خود نقل اور تیزی سے پھیلنا وائرس کی خصوصیات ہیں۔ اکثر یہ ترقی، خود اور خود، متاثرہ نیٹ ورک کے لیے ایک مسئلہ ہو سکتی ہے۔ پچھلے مضمون میں سلیمر وائرس اور اس کی تیز رفتار، ہائی والیوم اسکیننگ کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ تیزی سے پھیلنے والے وائرس سے نیٹ ورک کی فعالیت اور ذمہ داری کم ہو جاتی ہے۔ بس ٹریفک بوجھ سے تجاوز کر کے جس نیٹ ورک کو لے جانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، نیٹ ورک کو عارضی طور پر غیر فعال کر دیا جا سکتا ہے۔

وائرس کیسے پھیلتا ہے

عام طور پر، وائرس بنیادی طور پر دو طریقوں میں سے ایک میں پھیلتا ہے۔ پہلا یہ ہے کہ نیٹ ورک سے کنکشن کے لیے آپ کے کمپیوٹر کو آسانی سے اسکین کریں، اور پھر خود کو نیٹ ورک پر موجود دیگر مشینوں میں کاپی کریں جن تک آپ کے کمپیوٹر تک رسائی ہے۔ یہ طریقہ وائرس پھیلانے کا موثر طریقہ ہے۔ تاہم، اس طریقہ کار میں مزید پروگرامنگ کی مہارت کی ضرورت ہے۔ زیادہ عام طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنی ای میل ایڈریس بک پڑھیں اور اپنی ایڈریس بک میں موجود ہر کسی کو خود ای میل کریں۔ پروگرامنگ یہ ایک معمولی کام ہے، جو بتاتا ہے کہ یہ اتنا عام کیوں ہے۔

مؤخر الذکر طریقہ، اب تک، وائرس کے پھیلاؤ کا سب سے عام طریقہ ہے اور مائیکروسافٹ آؤٹ لک ایک ایسا ای میل پروگرام ہو سکتا ہے جو اکثر اس طرح کے وائرس کے حملوں کا شکار ہوتا ہے۔ آؤٹ لک سیکیورٹی کی خرابی کی کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ آؤٹ لک کے ساتھ کام کرنا آسان ہے۔ مائیکروسافٹ کی تمام مصنوعات اسی مقصد کے لیے بنائی گئی ہیں، ایک پروگرامر ایک ایپلی کیشن بناتا ہے جس سے وہ ایپلی کیشن میں گہری رسائی حاصل کر سکتا ہے اور ایسی ایپلی کیشن بنا سکتا ہے جو مائیکروسافٹ آفس سویٹ میں ایپلی کیشن کو ضم کر سکے۔ مثال کے طور پر، ایک پروگرامر ایک ایسی ایپلی کیشن لکھ سکتا ہے جو ورڈ دستاویز تک رسائی حاصل کرے، ایکسل اسپریڈشیٹ درآمد کرے، اور پھر آؤٹ لک کا استعمال کریں تاکہ خود بخود نتیجہ خیز دستاویز کو دلچسپی رکھنے والی جماعتوں کو ای میل کریں۔ مائیکروسافٹ کی طرف سے یہ ایک اچھا کام ہے کہ اس کے لیے عام طور پر عمل کو آسان بنایا جائے، اس کام کو ختم کرنے کے لیے پروگرامنگ کی ضرورت نہیں ہے۔ آؤٹ لک کا استعمال کرتے ہوئے، آؤٹ لک کا حوالہ دینے اور ای میل بھیجنے کے لیے کوڈ کی پانچ لائنوں سے کم وقت لگتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک پروگرام لفظی طور پر آؤٹ لک خود کو ای میل بھیجنے کا سبب بن سکتا ہے، صارف کو اس کا علم نہیں۔ انٹرنیٹ پر، بات کرنے کے لیے مفت، یہ بتانے کے لیے کئی کوڈ موجود ہیں۔ آپ کی آؤٹ لک ایڈریس بک تک رسائی حاصل کرنے اور خود بخود ای میل بھیجنے کے لیے پروگرامر کی ضرورت نہیں ہے۔ بنیادی طور پر، آؤٹ لک کو پروگرام کرنے میں آسانی یہ ہے کہ آؤٹ لک کو نشانہ بنانے والے وائرس کے بہت سے حملے کیوں ہوتے ہیں۔

جب کہ وائرس کے زیادہ تر حملے شکار کے موجودہ ای میل سافٹ ویئر کے ساتھ منسلک ہونے سے پھیلتے ہیں، کچھ حالیہ وائرس پھیلنے والوں نے پھیلاؤ کے طریقہ کار کے لیے دوسرے طریقے استعمال کیے ہیں وہ یہ ہے کہ خود کو پورے نیٹ ورک پر کاپی کرنا ہے۔ متعدد راستوں سے پھیلنے والے وائرس کا پھیلنا زیادہ عام ہوتا جا رہا ہے۔ پے لوڈ کی ترسیل بہت آسان ہے اور یہ آخری صارف کی لاپرواہی اور نہ ہی وائرس کے پروگرامر کی مہارت پر منحصر ہے۔ صارفین کو ویب سائٹس پر جانے یا فائلیں کھولنے کے لیے آمادہ کرنا وائرس کی فراہمی کا ایک عام طریقہ ہے اور جس کے لیے کسی پروگرامنگ کی مہارت کی ضرورت نہیں ہے۔ اس سے قطع نظر کہ وائرس آپ کی دہلیز پر کیسے آتا ہے، جب وائرس آپ کے سسٹم میں ہوتا ہے کہ وہ آپ کے سسٹم کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ ایک بار جب آپ کے سسٹم پر وائرس آجاتا ہے، تو یہ کسی بھی چیز کو کر سکتا ہے جو کوئی بھی جائز پروگرام کر سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ ممکنہ طور پر فائلوں کو حذف کر سکتا ہے، سسٹم کی ترتیب کو تبدیل کر سکتا ہے یا دیگر نقصان پہنچا سکتا ہے۔

حالیہ وائرس کی مثالیں

وائرس کے حملوں کے خطرے کو زیادہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ اگرچہ بہت سے ایسے ویب صفحات ہیں جو وائرس سے متعلق معلومات فراہم کرتے ہیں، لیکن میری رائے میں، صرف مٹھی بھر ویب صفحات ہیں جو مسلسل تازہ ترین، سب سے زیادہ قابل اعتماد، وائرس کے پھیلاؤ کے بارے میں انتہائی تفصیلی معلومات فراہم کرتے ہیں۔ کوئی بھی سیکیورٹی پیشہ ور ان سائٹس سے مستقل بنیادوں پر مشورہ کرنا چاہے گا۔ آپ کسی بھی وائرس، ماضی یا حال کے بارے میں درج ذیل ویب سائٹس پر پڑھ سکتے ہیں:

 

· www.f-secure.com/virus-info/virus-news/

· www.cert.org/nav/index_red.html

 Securityresponse.symantec.com/

· Vil.nai.com/vil/

ذیل میں وائرس کے کچھ حالیہ پھیلاؤ کو دیکھیں گے اور جائزہ لیں گے کہ انہوں نے کیسے کام کیا اور انہوں نے کیا کیا۔

سوبیگ وائرس:

جس وائرس نے میڈیا کی سب سے زیادہ توجہ حاصل کی اور شاید 2003 میں سب سے زیادہ نقصان پہنچایا وہ واضح طور پر سوبیگ وائرس تھا۔ اس وائرس کے بارے میں پہلی دلچسپ بات یہ تھی کہ یہ کیسے پھیلا۔ یہ پھیلنے کے لیے ملٹی ماڈل اپروچ کا استعمال کرتے ہوئے پھیلا۔ اس کا مطلب ہے کہ اس نے نئی مشینوں کو پھیلانے اور متاثر کرنے کے لیے ایک سے زیادہ طریقہ کار استعمال کیا۔ یہ خود کو آپ کے نیٹ ورک پر کسی بھی مشترکہ ڈرائیوز میں کاپی کرے گا اور یہ خود کو آپ کی ایڈریس بک میں موجود ہر کسی کو ای میل کرے گا۔ ان وجوہات کی بناء پر یہ وائرس خاص طور پر خطرناک تھا۔

FYI: وائرولنٹ وائرس

وائرلنٹ کی اصطلاح کا مطلب بنیادی طور پر کمپیوٹر وائرس کے حوالے سے وہی چیز ہے جیسا کہ یہ ایک حیاتیاتی وائرس کے ساتھ کرتا ہے۔ یہ اس بات کا پیمانہ ہے کہ انفیکشن کتنی تیزی سے پھیلتا ہے اور کتنی آسانی سے نئے اہداف کو متاثر کرتا ہے۔

سوبیگ کے معاملے میں، اگر کسی نیٹ ورک پر ایک شخص وائرس پر مشتمل ای میل کھولنے کے لیے کافی بدقسمت تھا، تو نہ صرف اس کی مشین متاثر ہوگی، بلکہ اس نیٹ ورک پر موجود ہر مشترکہ ڈرائیو جس تک اس شخص کی رسائی تھی۔ تاہم، سوبیگ، جیسے کہ زیادہ تر ای میل سے تقسیم ہونے والے وائرس کے حملوں میں، ای میل کے مضمون یا عنوان میں ٹیل ٹیل سائن تھا جو وائرس سے متاثرہ ای میل کی شناخت کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔ ای میل کا کچھ دلکش عنوان ہوگا جیسے "یہ نمونہ ہے" یا "دستاویز" تاکہ آپ کو منسلک فائل کو کھولنے کے لیے کافی تجسس پیدا کرنے کی ترغیب دی جائے۔ اس کے بعد وائرس خود کو ونڈوز سسٹم ڈائرکٹری میں کاپی کر لے گا۔

یہ خاص وائرس اب تک پھیل گیا اور بہت سارے نیٹ ورکس کو متاثر کیا کہ صرف وائرس کی ایک سے زیادہ کاپیاں بنانا کچھ نیٹ ورکس کو بند کرنے کے لیے کافی تھا۔ اس وائرس نے فائلوں کو تباہ نہیں کیا اور نہ ہی سسٹم کو نقصان پہنچایا، لیکن اس نے ٹریفک کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا جس نے اس سے متاثرہ نیٹ ورکس کو جھنجھوڑ دیا۔ وائرس خود اعتدال پسند نفاست کا تھا۔ ایک بار جب یہ ختم ہو گیا، تاہم، بہت سی مختلف شکلیں ابھرنے لگیں، جو صورت حال کو مزید پیچیدہ بناتی ہیں۔ سوبیگ کی کچھ اقسام کے ضمنی اثرات میں سے ایک انٹرنیٹ سے فائلوں کو ڈاؤن لوڈ کرنا تھا جو پھر پرنٹنگ کے مسائل کا باعث بنتی تھیں۔ کچھ نیٹ ورک پرنٹرز صرف کچرا پرنٹ کرنا شروع کرتے ہیں۔ ردی کی پرنٹنگ شروع کریں. Sobig.E ویرینٹ یہاں تک کہ ونڈوز رجسٹری کو بھی لکھے گا، جس کی وجہ سے خود کمپیوٹر اسٹارٹ اپ میں ہے (F-Secure، 2003) یہ پیچیدہ خصوصیات بتاتی ہیں کہ تخلیق کار ونڈوز رجسٹری تک رسائی، مشترکہ ڈرائیوز تک رسائی، ونڈوز کو تبدیل کرنے کا طریقہ جانتا تھا۔ آغاز اور آؤٹ لک تک رسائی حاصل کریں۔

یہ وائرس کی مختلف حالتوں کا مسئلہ اور وہ کیسے واقع ہوتا ہے۔ حیاتیاتی وائرس کی صورت میں، جینیاتی کوڈ میں تغیرات نئے وائرس کے تناؤ کا سبب بنتے ہیں اور قدرتی انتخاب کے دباؤ سے ان میں سے کچھ داغ مکمل طور پر وائرس کی نئی نسلوں میں تیار ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے، حیاتیاتی طریقہ وہ نہیں ہے جو کمپیوٹر وائرس کے ساتھ ہوتا ہے۔ کمپیوٹر وائرس کے ساتھ، کیا ہوتا ہے کہ بدنیتی کے ارادے کے ساتھ کچھ نڈر پروگرامر کو وائرس کی ایک کاپی مل جائے گی (شاید اس کی اپنی مشین متاثر ہو جائے) اور پھر اسے ریورس انجنیئر کر دے گی۔ چونکہ بہت سے وائرس حملے ایک اسکرپٹ کی شکل میں ہوتے ہیں جو ای میل کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں، روایتی طور پر مرتب کیے گئے پروگراموں کے برعکس، ان حملوں کا ماخذ کوڈ آسانی سے پڑھنے کے قابل اور تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ سوال میں پروگرامر پھر صرف اصل وائرس کوڈ 4 لیتا ہے اور کچھ تبدیلی متعارف کراتا ہے، پھر مختلف قسم کو دوبارہ جاری کرتا ہے۔ اکثر، جو لوگ وائرس کی تخلیق کے لیے پکڑے جاتے ہیں وہ دراصل اس ویریئنٹ کے ڈویلپر ہوتے ہیں جن کے پاس اصل وائرس لکھنے والے کی مہارت کا فقدان تھا اور اس لیے آسانی سے پکڑے گئے۔

میامی وائرس

میمیل وائرس نے سوبی کی طرح میڈیا کی توجہ حاصل نہیں کی، لیکن اس کی دلچسپ خصوصیات تھیں۔ اس وائرس نے نہ صرف آپ کی ایڈریس بک سے ای میل ایڈریس جمع کیے بلکہ آپ کی مشین پر موجود دیگر دستاویزات سے بھی (گڈمنڈسن، 2004)۔ اس طرح، اگر آپ کے پاس آپ کی ہارڈ ڈرائیو پر ایک لفظ دستاویز ہے اور اس دستاویز میں ایک ای میل ایڈریس ہے، تو mimail اسے تلاش کرے گا۔ اس حکمت عملی کا مطلب یہ تھا کہ Mimail بہت سے دوسرے وائرسوں سے کہیں زیادہ پھیل جائے گا۔ Mimail کا اپنا بلٹ ان ای میل انجن تھا، اس لیے اسے آپ کے ای میل کلائنٹ کو "پگی بیک" کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ پھیل سکتا ہے قطع نظر اس کے کہ آپ نے کون سا ای میل سافٹ ویئر استعمال کیا ہے۔

زیادہ تر وائرس حملوں سے ان دو تغیرات نے Mimail کو ان لوگوں کے لیے دلچسپ بنا دیا جو کمپیوٹر وائرس کا مطالعہ کرتے ہیں۔ مختلف قسم کی تکنیکیں ہیں جو آپ کے کمپیوٹر پر پروگرام کے لحاظ سے کسی ایک فائل کو کھولنے اور پروسیس کرنے کی اجازت دیتی ہیں۔ تاہم، زیادہ تر وائرس کے حملے ان پر کام نہیں کرتے۔ ای میل ایڈریس کے لیے دستاویز کی اسکیننگ وائرس لکھنے والے کی مہارت اور تخلیقی صلاحیتوں کی ایک خاص سطح کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس مصنف کی رائے میں، Mimail کسی شوقیہ کا کام نہیں تھا، بلکہ پیشہ ورانہ سطح کی پروگرامنگ کی مہارت رکھنے والا شخص تھا۔

بگل وائرس

2003 کی چوتھی سہ ماہی میں تیزی سے پھیلنے والا ایک اور وائرس Bagle وائرس تھا۔ اس نے جو ای میل بھیجی ہے اس کا دعویٰ ہے کہ وہ آپ کے سسٹم ایڈمنسٹریٹر کا ہے۔ یہ آپ کو بتائے گا کہ آپ کا ای میل اکاؤنٹ وائرس سے متاثر ہوا ہے اور آپ کو ہدایات حاصل کرنے کے لیے منسلک فائل کو کھولنا چاہیے۔ ایک بار جب آپ نے منسلک فائل کو کھولا تو آپ کا سسٹم متاثر ہو گیا۔ یہ وائرس ڈبلیو کئی وجوہات کی بناء پر خاص طور پر دلچسپ۔ شروع کرنے کے لیے، یہ ای میل کے ذریعے پھیلتا ہے اور خود کو مشترکہ فولڈرز میں کاپی کرتا ہے۔ دوم، یہ آپ کے کمپیوٹر پر ای میل ایڈریس کی تلاش میں فائلوں کو بھی اسکین کر سکتا ہے۔ آخر کار اس وائرس نے آپ کے کمپیوٹر کا "مدافعتی نظام" نکال لیا۔ وائرس اسکینرز کو غیر فعال کرنا ایک نیا موڑ ہے جو وائرس کے تخلیق کار کی طرف سے کم از کم اعتدال پسند پروگرامنگ کی مہارتوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

ایک غیر وائرس وائرس

وائرس کی ایک اور نئی قسم پچھلے کچھ سالوں میں مقبولیت حاصل کر رہی ہے اور وہ ہے "نان وائرس وائرس" یا سادہ الفاظ میں، ایک دھوکہ۔ اصل میں وائرس لکھنے کے بجائے، ایک ہیکر اپنے پاس موجود ہر پتے پر ای میل بھیجتا ہے۔ ای میل کا دعویٰ ہے کہ وہ کچھ معروف اینٹی وائرس سینٹر سے ہے اور ایک نئے وائرس کے بارے میں خبردار کرتا ہے جو حساب کر رہا ہے۔ ای میل لوگوں کو وائرس سے چھٹکارا پانے کے لیے اپنے کمپیوٹر سے کچھ فائل ڈیلیٹ کرنے کی ہدایت کرتی ہے۔ تاہم فائل دراصل وائرس نہیں بلکہ سسٹم کا حصہ ہے۔ jdbgmgr.exe وائرس کی دھوکہ دہی نے اس اسکیم کا استعمال کیا (Vmyths.com، 2002)۔ اس نے قاری کو ایسی فائل کو حذف کرنے کی ترغیب دی جس کی اصل میں سسٹم کو ضرورت تھی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بہت سے لوگوں نے اس مشورے پر عمل کیا اور نہ صرف فائل کو ڈیلیٹ کر دیا بلکہ فوری طور پر اپنے دوستوں اور ساتھیوں کو ای میل کر کے متنبہ کیا کہ وہ اپنی مشینوں سے فائل ڈیلیٹ کر دیں۔

FYI: مورس انٹرنیٹ ورم

مورس ورم انٹرنیٹ پر تقسیم ہونے والے پہلے کمپیوٹر وارم میں سے ایک تھا۔ اور یہ یقینی طور پر سب سے پہلے میڈیا کی توجہ حاصل کرنے والا تھا۔ رابرٹ تپن مورس، جونیئر، جو اس وقت کارنل یونیورسٹی کے طالب علم تھے، نے اس کیڑے کو لکھا اور اسے 2 نومبر 1088 کو MIT سسٹم سے لانچ کیا۔ مورس اصل میں اس کیڑے سے کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچانا چاہتا تھا۔ اس کے بجائے، وہ چاہتا تھا کہ کیڑا ان پروگراموں میں کیڑے ظاہر کرے جن کا اس نے اسے پھیلانے کے لیے استعمال کیا۔ تاہم، کوڈ میں موجود کیڑے ایک انفرادی کمپیوٹر کو متعدد بار متاثر ہونے دیتے ہیں اور کیڑا ایک خطرہ بن جاتا ہے۔ ہر اضافی 'انفیکشن' نے متاثرہ نظام پر ایک نئے عمل کو جنم دیا۔ ایک خاص مقام پر متاثرہ نظام پر چلنے والے عمل کی زیادہ تعداد نے کمپیوٹر کو ناقابل استعمال ہونے تک سست کر دیا۔ کم از کم 5000 یونکس مشینیں اس کیڑے سے متاثر ہوئیں۔

مورس کو 1986 کے کمپیوٹر فراڈ اینڈ ابیوز ایکٹ کی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھہرایا گیا تھا اور اسے $10,000 جرمانہ، تین سال کی پروبیشن اور 400 گھنٹے کی کمیونٹی سروس کی سزا سنائی گئی تھی۔ لیکن شاید اس کیڑے کا سب سے بڑا اثر یہ تھا کہ اس کی وجہ سے کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (CERT) کی تشکیل ہوئی۔

وائرس سے بچنے کے اصول

آپ کو وائرس کے تمام حملوں کے ساتھ ایک عام تھیم (سوائے دھوکہ دہی کے) کو دیکھنا چاہئے، جو کہ وہ چاہتے ہیں کہ آپ کسی قسم کا اٹیچمنٹ کھولیں۔ وائرس کے پھیلنے کا سب سے عام طریقہ ای میل اٹیچمنٹ ہے۔ وائرس سکینر استعمال کریں، McAffee اور Norton دو سب سے زیادہ مقبول اور استعمال شدہ وائرس سکینر ہیں۔ وائرس سکینر کا استعمال کریں، McAffee اور Norton دو سب سے زیادہ مقبول اور استعمال شدہ وائرس سکینر ہیں۔ آپ کے وائرس سکینر کو اپ ڈیٹ رکھنے کے لیے ہر ایک کی قیمت تقریباً 30$ سالانہ ہے۔ کرو. اگر آپ کو اٹیچمنٹ کے بارے میں یقین نہیں ہے تو اسے نہ کھولیں۔ وائرس سکینر استعمال کریں، McAfee اور Norton دو سب سے زیادہ مقبول اور استعمال شدہ وائرس سکینر ہیں۔ آپ کو بھیجے گئے "سیکیورٹی الرٹس" پر یقین نہ کریں۔ مائیکروسافٹ اس طریقے سے انتباہات نہیں بھیجتا ہے۔ مائیکروسافٹ ویب سائٹ کو باقاعدگی سے چیک کریں، ساتھ ہی اس اینٹی وائرس ویب سائٹ میں سے ایک۔یہ اصول آپ کے سسٹم کو 100% وائرس پروف نہیں بنائیں گے، لیکن یہ آپ کے سسٹم کی حفاظت کی طرف بہت آگے جائیں گے۔

ٹروجن گھوڑے

ٹروجن ہارس ایک ایسے پروگرام کے لیے ایک اصطلاح ہے جو بظاہر بے نظیر نظر آتی ہے لیکن درحقیقت اس کا مقصد بدنیتی پر مبنی ہوتا ہے۔ آپ کو کوئی ایسا پروگرام موصول یا ڈاؤن لوڈ کر سکتا ہے جو بظاہر بے ضرر کاروباری افادیت یا گیم لگتا ہے۔ زیادہ امکان ہے، ٹروجن ہارس صرف ایک اسکرپٹ ہے جو ایک سومی نظر آنے والے ای میل سے منسلک ہے۔ جب آپ پروگرام چلاتے ہیں یا اٹیچمنٹ کھولتے ہیں، تو یہ اس کے علاوہ یا اس کے علاوہ کچھ اور کرتا ہے جو آپ نے سوچا تھا کہ ایسا ہوگا۔ ہو سکتا ہے:

 کسی ویب سائٹ سے نقصان دہ سافٹ ویئر ڈاؤن لوڈ کریں۔

 اپنی مشین پر کلیدی لاگر یا دیگر اسپائی ویئر انسٹال کریں۔

 فائلوں کو حذف کریں۔

 ہیکر کے استعمال کے لیے بیک ڈور کھولیں۔

 

امتزاج وائرس کے علاوہ ٹروجن ہارس کے حملوں کو تلاش کرنا عام ہے۔ ان حالات میں، ٹروجن ہارس وائرس کی طرح پھیلتا ہے۔ MyDoom وائرس نے آپ کی مشین پر ایک پورٹ کھول دیا جس کا بعد میں آنے والا وائرس، doomjuice، استحصال کرے گا، اس طرح MyDoom کو ایک مجموعہ وائرس اور ٹروجن ہارس بنا دے گا۔ایک ٹروجن گھوڑا بھی خاص طور پر کسی فرد کے لیے تیار کیا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی ہیکر کسی خاص فرد کی جاسوسی کرنا چاہتا ہے، جیسے کہ کمپنی اکاؤنٹنٹ، تو وہ خاص طور پر اس شخص کی توجہ مبذول کرنے کے لیے ایک پروگرام بنا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر وہ جانتی تھی کہ اکاؤنٹنٹ گولفر کورسز کا شوقین ہے۔ وہ اس پروگرام کو مفت ویب سرور پر پوسٹ کرے گی۔ اس کے بعد وہ اکاؤنٹنٹ سمیت کئی لوگوں کو ای میل کرتی اور انہیں مفت سافٹ ویئر کے بارے میں بتاتی۔ سافٹ ویئر، ایک بار انسٹال ہونے کے بعد، اس وقت لاگ ان شخص کا نام چیک کر سکتا ہے۔ اگر لاگ آن کردہ نام اکاؤنٹنٹ کے نام سے مماثل ہے، تو سافٹ ویئر باہر جا سکتا ہے، صارف کے لیے نامعلوم ہے اور کلیدی لاگر یا دیگر مانیٹرنگ ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کر سکتا ہے۔ اگر سافٹ ویئر نے فائلوں کو نقصان نہیں پہنچایا یا خود کو نقل نہیں کیا، پھر شاید یہ کافی عرصے تک پتہ نہیں چلا۔

FYI: وائرس یا کیڑا

وائرس اور کیڑے کے درمیان فرق کے بارے میں ماہرین میں اختلاف ہے۔ کچھ ماہرین MyDoom کو ایک کیڑا کہیں گے کیونکہ یہ انسانی مداخلت کے بغیر پھیلتا ہے۔ اس متن کے مقصد کے لیے، ان میلویئر کو وائرس کہا جائے گا۔

اس طرح کا پروگرام عملی طور پر کسی بھی معتدل طور پر قابل پروگرامر کی مہارت کے سیٹ کے اندر ہو سکتا ہے۔ یہ ایک وجہ ہے کہ بہت سی تنظیموں کے پاس کمپنی کی مشینوں پر کسی بھی سافٹ ویئر کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے خلاف قوانین ہیں۔ میں ٹروجن ہارس کے اس انداز میں اپنی مرضی کے مطابق بنائے جانے کے کسی حقیقی واقعے سے لاعلم ہوں۔ تاہم، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ وائرس کے حملے پیدا کرنے والے لوگ اختراعی ہوتے ہیں۔

ایک اور منظر نامے پر غور کرنا ہے جو کافی تباہ کن ہوگا۔ پروگرامنگ کی تفصیلات بتائے بغیر، ٹروجن ہارسز کے سنگین خطرات کو واضح کرنے کے لیے بنیادی بنیاد کو یہاں بیان کیا جائے گا۔ ایک چھوٹی ایپلی کیشن کا تصور کریں جو اسامہ بن لادن کی بے تکلف تصاویر کا ایک سلسلہ دکھاتی ہے۔ یہ ایپلیکیشن ممکنہ طور پر ریاستہائے متحدہ امریکہ میں بہت سے لوگوں میں، خاص طور پر فوجی، انٹیلی جنس کمیونٹی یا دفاع سے متعلقہ صنعتوں کے لوگوں میں مقبول ہوگی۔ اب فرض کریں کہ یہ ایپلیکیشن مشین پر کچھ وقت کے لیے غیر فعال رہتی ہے۔ اسے وائرس کی طرح نقل کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ کمپیوٹر صارف اسے اپنے بہت سے ساتھیوں کو بھیجے گا۔ ایک مخصوص تاریخ اور وقت پر، سافٹ ویئر کسی بھی ڈرائیو سے جوڑتا ہے، بشمول نیٹ ورک ڈرائیوز اور تمام فائلوں کو حذف کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اگر اس طرح کے ٹروجن گھوڑے کو "جنگل میں" چھوڑ دیا جاتا تو 30 دنوں کے اندر یہ شاید ہزاروں، شاید لاکھوں لوگوں کو بھیج دیا جائے گا۔ اس تباہی کا تصور کریں جب ہزاروں کمپیوٹرز فائلوں اور فولڈرز کو حذف کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

اس منظر نامے کا ذکر آپ کو تھوڑا سا خوفزدہ کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ کمپیوٹر استعمال کرنے والے، بشمول پیشہ ور افراد جنہیں بہتر جاننا چاہیے، انٹرنیٹ سے ہر طرح کی چیزیں معمول کے مطابق ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں، جیسے کہ دل لگی فلیش ویڈیوز اور پیاری گیمز۔ ہر بار جب کوئی ملازم اس نوعیت کی کوئی چیز ڈاؤن لوڈ کرتا ہے، تو ٹروجن ہارس کو ڈاؤن لوڈ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ کسی کو یہ سمجھنے کے لیے شماریات دان بننے کی ضرورت نہیں ہے کہ اگر ملازمین اس مشق کو کافی دیر تک جاری رکھتے ہیں، تو وہ بالآخر کمپنی کی مشین پر ٹروجن ہارس ڈاؤن لوڈ کریں گے۔ اگر ایسا ہے تو، امید ہے کہ وائرس اتنا شیطانی نہیں ہوگا جتنا کہ نظریاتی طور پر یہاں بیان کیا گیا ہے۔

بفر اوور فلو حملہ

آپ کو ٹارگٹ سسٹم پر حملہ کرنے کے کئی طریقوں کے بارے میں علم ہو گیا ہے: سروس سے انکار، وائرس اور ٹروجن ہارس۔ اگرچہ یہ حملے شاید سب سے عام ہیں، لیکن یہ واحد طریقے نہیں ہیں۔ سسٹم پر حملہ کرنے کا ایک اور طریقہ بفر اوور فلو (یا بفر اووررن) حملہ کہلاتا ہے۔ بفر اوور فلو حملہ اس وقت ہوتا ہے جب کوئی بفر میں اس سے زیادہ ڈیٹا ڈالنے کی کوشش کرتا ہے جو اسے رکھنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا (searchSecurity.com، 2004a)۔ کوئی بھی پروگرام جو انٹرنیٹ یا نجی نیٹ ورک کے ساتھ بات چیت کرتا ہے اسے کچھ ڈیٹا ضرور لینا چاہیے۔ یہ ڈیٹا، کم از کم عارضی طور پر، میموری میں ایک جگہ میں محفوظ کیا جاتا ہے جسے بفر کہتے ہیں۔ اگر ایپلی کیشن لکھنے والا پروگرامر محتاط تھا، جب آپ بہت زیادہ معلومات کو بفر میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، تو اس معلومات کو یا تو صرف چھوٹا کر دیا جاتا ہے یا اسے یکسر مسترد کر دیا جاتا ہے۔ ٹارگٹ سسٹم پر چلنے والی ایپلی کیشنز کی تعداد اور ہر ایپلیکیشن میں بفرز کی تعداد کے پیش نظر، کم از کم ایک بفر ہونے کے امکانات جو کہ صحیح طریقے سے نہیں لکھے گئے ہیں، کسی بھی ہوشیار شخص کو تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

کوئی شخص جو پروگرامنگ میں اعتدال سے مہارت رکھتا ہے وہ ایسا پروگرام لکھ سکتا ہے جو جان بوجھ کر بفر میں اس سے زیادہ لکھتا ہے جتنا کہ اس کے پاس ہے۔ مثال کے طور پر، اگر بفر 1024 بائٹس کا ڈیٹا رکھ سکتا ہے اور آپ اسے 2048 بائٹس سے بھرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو اضافی 24 بائٹس کو میموری میں سادہ لوڈ کیا جاتا ہے۔ اگر وہ اضافی ڈیٹا درحقیقت ایک بدنیتی پر مبنی پروگرام ہے، تو اسے ابھی میموری میں لوڈ کیا گیا ہے اور اس طرح اب ٹارگٹ سسٹم پر چل رہا ہے۔ یا، شاید مجرم صرف ٹارگٹ مشین کی میموری کو فلڈ کرنا چاہتا ہے، اس طرح اس وقت میموری میں موجود دیگر آئٹمز کو اوور رائٹ کرتا ہے اور ان کے کریش ہونے کا سبب بنتا ہے۔ کسی بھی طرح سے، بفر اوور فلو ایک بہت سنگین حملہ ہے۔

خوش قسمتی سے، بفر اوور فلو حملوں کو ایک DoS یا سادہ Microsoft Outlook اسکرپٹ وائرس کے مقابلے میں انجام دینا قدرے مشکل ہے۔ بفر اوور فلو اٹیک بنانے کے لیے، آپ کو کچھ پروگرامنگ لینگویج (C یا C++ اکثر منتخب کی جاتی ہے) کے بارے میں اچھی طرح سے علم ہے اور ٹارگٹ آپریٹنگ سسٹم / ایپلیکیشن کو اچھی طرح سے سمجھیں کہ آیا اس میں بفر اوور فلو کی کمزوری ہے اور یہ کمزوری کیسے ہو سکتی ہے۔

سیسر وائرس / بفر اوور فلو

یہ نوٹ کرنا دلچسپ ہونا چاہئے کہ کئی بڑے نئے وائرس پھیلے ہیں - خاص طور پر، سیسر وائرس۔ سیسر ایک مجموعہ حملہ ہے جس میں وائرس (یا کیڑا) بفر اووررن کا استحصال کرکے پھیلتا ہے۔سیسر وائرس ونڈوز سسٹم پروگرام میں معلوم خامی کا فائدہ اٹھا کر پھیلتا ہے۔ Sasser خود کو avserve.exe کے طور پر ونڈوز ڈائرکٹری میں کاپی کرتا ہے اور اسٹارٹ اپ کے وقت ایک رجسٹری کلید بناتا ہے۔ اس طرح، ایک بار جب آپ کی مشین متاثر ہو جاتی ہے، تو آپ ایس جب بھی آپ مشین شروع کرتے ہیں وائرس کو ٹارٹ کریں۔ یہ وائرس بے ترتیب آئی پی ایڈریس کو اسکین کرتا ہے، جس کی فہرست 1068 سے شروع ہونے والی یکے بعد دیگرے TCP بندرگاہوں پر ہوتی ہے جو کہ استحصالی نظاموں کے لیے --- یعنی ایسے سسٹمز جن کو اس خامی کو دور کرنے کے لیے پیچ نہیں کیا گیا ہے۔ جب کوئی پایا جاتا ہے، تو کیڑا LSASS.EXE میں ایک بفر کو بہا کر کمزور نظام کا استحصال کرتا ہے، جو کہ ایک فائل ہے جو ونڈوز آپریٹنگ سسٹم کا حصہ ہے۔ یہ قابل عمل بلٹ ان سسٹم فائل ہے اور یہ ونڈوز کا حصہ ہے۔ Sasser TCP پورٹ 5554 پر ایک FTP سرور کے طور پر بھی کام کرتا ہے اور یہ TCP پورٹ 9996 پر ایک ریموٹ شیل بناتا ہے۔ اس کے بعد، Sasser ریموٹ ہوسٹ پر cmd.ftp نامی ایک FTP اسکرپٹ بناتا ہے اور اس اسکرپٹ پر عمل درآمد کرتا ہے۔ یہ FTP اسکرپٹ ہدف کے شکار کو متاثرہ میزبان سے کیڑے کو ڈاؤن لوڈ کرنے اور اس پر عمل کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ متاثرہ میزبان TCP پورٹ 5554 پر اس FTP ٹریفک کو قبول کرتا ہے۔ کمپیوٹر C: ڈرائیو پر win.log نام کی فائل بھی بناتا ہے۔ اس فائل میں لوکل ہوسٹ کا IP ایڈریس ہے۔ وائرس کی کاپیاں ونڈوز سسٹم ڈائرکٹری میں #_up.exe کے طور پر بنائی جاتی ہیں۔ مثالیں یہاں دکھائی گئی ہیں:

C:\WINDOWS\system32\12553_up.exe

C:\WINDOWS\system32\17923_up.exe

C:\WINDOWS\system32\29679_up.exe

اس وائرس کا ایک ضمنی اثر یہ ہے کہ یہ آپ کی مشین کو دوبارہ شروع کرنے کا سبب بنتا ہے۔ ایک مشین جو بغیر کسی معلوم وجہ کے بار بار ریبوٹ ہو رہی ہے وہ سیسر وائرس سے متاثر ہو سکتی ہے۔یہ ایک اور معاملہ ہے جس میں کئی طریقوں سے انفیکشن کو آسانی سے روکا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے، اگر آپ اپنے سسٹم کو مستقل بنیادوں پر اپ ڈیٹ کرتے ہیں، تو آپ کے سسٹم کو اس خامی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ دوم، اگر آپ کے نیٹ ورک کے روٹرز یا فائر وال مذکورہ بندرگاہوں (9996 اور 5554) پر ٹریفک کو روکتے ہیں، تو آپ Sasser کے زیادہ تر نقصان کو روکیں گے۔ آپ کے فائر وال کو صرف مخصوص بندرگاہوں پر ٹریفک کی اجازت دینی چاہیے، باقی تمام بندرگاہوں کو بند کر دینا چاہیے۔ مختصراً، اگر آپ نیٹ ورک ایڈمنسٹریٹر کے طور پر سیکیورٹی کے مسائل سے آگاہ ہیں اور نیٹ ورک کی حفاظت کے لیے دانشمندانہ اقدامات کر رہے ہیں، تو آپ کا نیٹ ورک محفوظ رہے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سارے نیٹ ورک اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں اس بات کی نشاندہی کرنی چاہئے کہ کافی منتظمین کمپیوٹر سیکیورٹی میں مناسب طریقے سے تربیت یافتہ نہیں ہیں۔

 


THE IMPACT OF AI ON THE FUTURE OF HUMAN LIFE

Artificial Intelligence (AI) is rapidly transforming the world, and its influence will continue to grow in the coming decades. From healthca...